🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب الامر بحسن الظن بالله تعالى عند الموت:
باب: موت کے وقت اللہ جل جلالہ کے ساتھ نیک گمان رکھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2879 ترقیم شاملہ: -- 7234
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ ".
حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر شخص پر جو ان میں تھا، عذاب آتا ہے، اس کے بعد وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7234]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب میں گرفتار کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ تمام (اچھے، برے) افراد پر عذاب نازل فرما دیتا ہے، پھر انہیں اپنے اپنے عملوں پر اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2879
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥حمزة بن عبد الله المدني، أبو عمارة
Newحمزة بن عبد الله المدني ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← حمزة بن عبد الله المدني
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7108
إذا أنزل الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم بعثوا على أعمالهم
صحيح مسلم
7234
إذا أراد الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم بعثوا على أعمالهم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7234 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7234
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
بعض دفعہ دنیوی عذاب میں،
برے لوگوں کے ساتھ،
اچھے لوگ بھی عذاب کا شکار ہوجاتے ہیں،
لیکن آخرت میں،
ہر انسان کو جزاوسزا اپنے اپنے اعمال کے مطابق ملے گی،
گناہ گار عقوبت وسزا کا مستحق ہوگا اور اطاعت گزار،
اجرو ثواب کا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7234]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7108
7108. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو جوان میں موجود ہوتے ہیں ان تمام کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے پھر انہیں قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7108]
حدیث حاشیہ:
آیت قرآنی (وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً)
میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
سچ کہا ہے کہ چنے کے ساتھ گیہوں پس جاتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7108]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7108
7108. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو جوان میں موجود ہوتے ہیں ان تمام کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے پھر انہیں قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7108]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کے پیش کرنے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ جنگ جمل یا جنگ صفین میں شامل تمام لوگ فریقین کے مخالف یا طرفدار نہیں تھے، یقیناً کچھ ایسے بھی ہوں گے جنھیں مجبوراً اس جنگ میں دھکیل دیا گیا، اگر وہ جنگ میں لقمہ اجل بن گئے ہوں تو قیامت کے دن ان کے ساتھ ان کی نیت کے مطابق سلوک کیا جائےگا، مثلاً:
جب کسی گھر کی چھت گرتی ہے یا زلزلہ آتا ہے تو صرف بُرے لوگ ہی اس کی لپیٹ میں نہیں آتے بلکہ نیک لوگ بھی ہلاک ہو جاتے ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے:
چنے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔

بہرحال جب فتنوں کا دور ہوتا ہے تو اس کی لپیٹ میں سب لوگ آ جاتے ہیں، اس لیے انسان کو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے فریضے سے کسی صورت میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
مداہنت اور سستی کرنے اس لیے انسان کو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے فریضے سے کسی صورت میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
مداہنت اور سستی کرنے والا، انھیں دیکھ کر خوش ہونے والا اور فتنوں کو بھڑکانے والا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ سے ہم سلامتی کے طلبگار ہیں۔
(فتح الباري: 77/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7108]

Sahih Muslim Hadith 7234 in Urdu