Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب:
باب: قیامت آنے سے قبل فرات میں سونے کا پہاڑ نکلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2895 ترقیم شاملہ: -- 7276
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي مَعْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ وَاقِفًا مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَقَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا، قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ، فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ: لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ كُلِّهِ، قَالَ: فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ "، قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ.
ابوکامل فضیل بن حسین اور ابومعن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ ابومعن کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے سلیمان بن یسار سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا، تو انہوں نے کہا: دنیا کی طلب میں لوگوں کی گردنیں مسلسل ایک دوسرے سے مختلف (اور باہمی جھگڑے اور عداوتیں جاری) رہیں گی۔ میں نے کہا: ہاں (بالکل ایسے ہی ہو گا)۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (وہ وقت) قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا۔ جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل نکلیں گے۔ جو لوگ اس (پہاڑ) کے قریب ہوں گے، وہ کہیں گے: اگر ہم نے (دوسرے) لوگوں کو اس میں سے (سونا) لے جانے کی اجازت دے دی، تو وہ سب کا سب لے جائیں گے۔ کہا: وہ اس پر جنگ آزما ہوں گے، تو ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائیں گے۔ ابوکامل نے اپنی حدیث میں (اس طرح) کہا: انہوں نے کہا: میں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قلعہ حسان کے سائے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7276]
عبداللہ بن حارث بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انھوں نے کہا لوگوں کی گردنیں دنیا کی طلب میں ہمیشہ مختلف رہیں گی، میں نے کہا، ہاں،حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"قریب ہے فرات سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہو جائے گا سو لوگ جب یہ بات سنیں گے، اس کی طرف چل پڑیں گے،پہاڑ کے قریب کے لوگ کہیں گے اگر ہم لوگوں کو اس کے لینے کے لیے کھلا چھوڑدیں تو یہ سارا لے جائیں گے، اس وجہ سے اس پر لڑپڑیں گے، چنانچہ ہر سو میں سے ننانویں قتل کر دئیے جائیں گے۔"ابو کامل کی حدیث میں ہے میں اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلعہ کے سایہ میں کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7276]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2895
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥عبد الله بن الحارث الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن الحارث الهاشمي ← أبي بن كعب الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← عبد الله بن الحارث الهاشمي
ثقة
👤←👥جعفر بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الحميد
Newجعفر بن عبد الله الأنصاري ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، أبو حفص، أبو الفضل
Newعبد الحميد بن جعفر الأنصاري ← جعفر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← عبد الحميد بن جعفر الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥زيد بن يزيد الثقفي، أبو معن
Newزيد بن يزيد الثقفي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← زيد بن يزيد الثقفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7119
يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا
صحيح مسلم
7275
يحسر الفرات عن جبل من ذهب يقتتل الناس عليه فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون ويقول كل رجل منهم لعلي أكون أنا الذي أنجو
صحيح مسلم
7275
يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا
صحيح مسلم
7276
يحسر عن جبل من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا
جامع الترمذي
2569
يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا
سنن أبي داود
4313
يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا
سنن ابن ماجه
4046
يحسر الفرات عن جبل من ذهب فيقتتل الناس عليه فيقتل من كل عشرة تسعة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7276 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7276
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اجم،
قلعہ،
جمع آجام ہے۔
(2)
اعناق،
عنق (گردن)
کی جمع ہے،
اس سے مراد،
لوگوں کی حرص وآز کوبیان کرنا ہے کہ عام طور پر لوگ حصول دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی چیز ان میں باہمی رنجش واختلاف کا باعث بنتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7276]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4046
قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4046]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے شاذ ہونے کی وجہ سے ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے ایک جملے کے سوا باقی روایت کو حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی اور دکتور بشار عواد اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت (مِنْ كُلِّ عَشرَة تِسْعَة)
دس میں سے نو افراد۔
والے کے جملے کے علاوہ حسن صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ جملہ شاذ ہے جبکہ محفوظ الفاظ (مِنْ كُلِّ مِائَةٌ تِسْعَة وَّ تِسْعُوْن)
ہر سو میں سے نناوے ہیں۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے بھی اس جملے کو شاذ قراردیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت اس جملے کے سوا حسن بن جاتی ہے۔
والله اعلم، دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجة للألباني، رقم:
 3286 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4046)

(2)
دریائے فرات ترکی سے شروع ہوکرشام عراق میں سے گزرتا ہوا خلیج فارس میں گرتا ہے۔
ترکی کا وہ حصہ بھی اس سے سیراب ہوتا ہے جہاں کردستان کے نام سے الگ ملک بنانے کی تحریک چل رہی ہے۔
اور عراق کا وہ حصہ جہاں یہ سمندر میں گرتا ہے۔
ایران اور کویت دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔
اس لیے اس علاقے میں معدنی دولت کا خزانہ ظاہر ہونے پر علاقے کے ممالک میں جنگ کا چھڑنا ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ہی علاقے کے ممالک کی سلامتی اور تحفظ کے نام پر بڑے ملک (امریکہ، روس اور چین وغیرہ)
بھی اس دولت پر قبضہ جمانے کے لیے شریک ہوسکتے ہیں۔

(3)
اس واقعہ کی پیشگی خبر دینے میں یہ حکمت ہے کہ سمجھ دار آدمی دولت کا لالچ نہ کریں اور جنگ میں شریک ہوکر جانیں نہ گنوائیں باالخصوص یہ جنگ اتنی شدید اور خطرناک ہوگی کہ ننانوے فیصد لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور صرف ایک فی صد جنگجو زندہ بچیں گے۔
ان کا حال بھی زخموں اور بیماریوں کی وجہ سے قابل رشک نہیں ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4046]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2569
باب:۔۔۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2569]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2569]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7119
7119. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب دریائے فرات سے سونے کا خزانہ ظاہر ہوگا جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس سے کچھ نہ لے۔ ایک دوسری روایت ہے میں ہے کہ سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7119]
حدیث حاشیہ:
تو خزانے کے بدل پہاڑ کا لفظ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7119]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7119
7119. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب دریائے فرات سے سونے کا خزانہ ظاہر ہوگا جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس سے کچھ نہ لے۔ ایک دوسری روایت ہے میں ہے کہ سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7119]
حدیث حاشیہ:

کچھ لوگوں نے سونے سے تیل یا پٹرول کا کنواں مراد لیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث سونے کے پہاڑ کی صریح نص ہے جبکہ پٹرول میں سونا نہیں بلکہ سونا ایک معدن کا نام ہے۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عنقریب زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑے نکال باہر پھینکے گی جیسے سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ستون ہوتے ہیں۔
قاتل آئے گا اور کہے گا:
میں نے اس کے لیے قتل کیا، رشتہ داری توڑنے والا آئے گا اور کہے گا:
میں نے اس کے لیے رشتوں کوتوڑا، چور آئے گا اور کہے گا:
اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر سب کے سب اس کو چھوڑیں گے اور اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔
(صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)

اس خزانے سے کچھ نہ لینے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وہاں قتل وغارت کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
جب لوگ سنیں گے تو اس کی طرف چل دیں گے اور جو لوگ وہاں موجود ہوں گے وہ کہیں گے:
اگر ہم نے انھیں اس پہاڑ سے لینے دیا تو یہ سارا سونا لے جائیں گے۔
آخر کار جنگ ہوگی اور نناوے فیصد لوگ مارے جائیں گے۔
(صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7119]