سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. باب في الجنب يصافح
باب: جنبی مصافحہ کرے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 230
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تو آپ (مصافحہ کے لیے) ہاتھ پھیلاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے، حذیفہ نے کہا: میں جنبی ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان نجس نہیں ہوتا“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 230]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور (مصافحہ کے لیے) ان کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے کہا: ”میں جنبی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان ناپاک (پلید) نہیں ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 29 (372)، سنن النسائی/الطھارة 172 (269)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 80 (535)، (تحفة الأشراف: 3339)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384، 402) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جنابت نجاست حکمی ہے اس سے آدمی کا بدن یا پسینہ نجس نہیں ہوتا، اسی واسطے جنبی کے ساتھ ملنا بیٹھنا اور کھانا پینا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (372)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
230
| المسلم لا ينجس |
صحيح مسلم |
825
| المسلم لا ينجس |
سنن النسائى الصغرى |
269
| المسلم لا ينجس |
سنن النسائى الصغرى |
268
| المسلم لا ينجس |
سنن ابن ماجه |
535
| المسلم لا ينجس |
Sunan Abi Dawud Hadith 230 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي