🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب التشهد في الصلاة:
باب: نماز میں تشہد کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 404 ترقیم شاملہ: -- 905
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَتَادَةَ: مِنَ الزِّيَادَةِ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: فَإِنَّ اللَّهَ، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ وَحْدَهُ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق، قَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ مُسْلِمٌ: تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: هُوَ صَحِيحٌ، يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ، فَقَالَ: لِمَ، لَمْ تَضَعْهُ هَا هُنَا؟ قَالَ: لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا، إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ،
ابواسامہ نے سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی، نیز معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، اسی طرح جریر نے سلیمان تیمی سے خبر دی، ان سب (ابن ابی عروبہ، ہشام اور سلیمان) نے قتادہ سے اسی (سابقہ) حدیث کے مانند روایت کی، البتہ قتادہ سے سلیمان اور ان سے جریر کی بیان کردہ حدیث میں یہ اضافہ ہے: جب امام پڑھے تو تم غور سے سنو۔ اور ابوعوانہ کے شاگرد کامل کی حدیث کے علاوہ ان میں سے کسی کی حدیث میں: اللہ عز و جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد کی۔ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابواسحاق نے کہا: ابونضر کے بھانجے ابوبکر نے اس حدیث کے متعلق بات کی تو امام مسلم نے کہا: آپ کو سلیمان سے بڑا حافظ چاہیے؟ اس پر ابوبکر نے امام مسلم سے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث؟ پھر (ابوبکر نے) کہا: وہ صحیح ہے، یعنی (یہ اضافہ کہ) جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو۔ امام مسلم نے (جواباً) کہا: وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے۔ تو ابوبکر نے کہا: آپ نے اسے یہاں کیوں نہ رکھا (درج کیا)؟ (امام مسلم نے جواباً) کہا: ہر وہ چیز جو میرے نزدیک صحیح ہے، میں نے اسے یہاں نہیں رکھا۔ یہاں میں نے صرف ان (احادیث) کو رکھا جن (کی صحت) پر انہوں (محدثین) نے اتفاق کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 905]
امام صاحب رحمہ اللہ نے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ بیان کیا۔ کہ جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو، اور ان میں سے کسی کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوایا ہے، «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، صرف ابو کامل رحمہ اللہ اکیلا ہی ابو عوانہ رحمہ اللہ سے یہ الفاظ نقل کرتا ہے۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں، ابو نضر رحمہ اللہ کے بھانجے، ابوبکر رحمہ اللہ نے اس حدیث پر بحث کی تو امام مسلم رحمہ اللہ نے جواب دیا آپ کو سلیمان رحمہ اللہ سے زیادہ حافظ مطلوب ہے، (یعنی سلیمان حفظ و ضبط میں پختہ ہے، اس لیے اس کا اضافہ مقبول ہے) تو ابوبکر رحمہ اللہ نے امام مسلم رحمہ اللہ سے پوچھا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث «إِذَا قَرَأَ فَانْصِتُوا» (جب امام قراءت کرے تم خاموش رہو)، کیسی ہے؟ امام صاحب رحمہ اللہ نے جواب دیا، وہ صحیح ہے اور میں اس کو صحیح سمجھتا ہوں تو ابوبکر رحمہ اللہ نے پوچھا تو آپ نے اسے اپنی کتاب میں بیان کیوں نہیں کیا؟ امام صاحب رحمہ اللہ نے جواب دیا: ہر وہ حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہے، میں نے اس کو یہاں نقل نہیں کیا، یہاں تو میں نے ان ہی کی احادیث کو بیان کیا ہے، جن کی صحت پر سب کا اتفاق ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 905]
ترقیم فوادعبدالباقی: 404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطابثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مالك بن عبد الواحد المسمعي، أبو غسان
Newمالك بن عبد الواحد المسمعي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← مالك بن عبد الواحد المسمعي
ثقة حافظ
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 905 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 905
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1) (وَإِذَا قَرأالْإِمَامُ فَانْصِتُوْا)
جب امام پڑھے تم خاموش رہو کا تعلق سورہ فَاتِحَہ کے بعد والی قرآءت سے ہے کیونکہ سورۃ فاتحہ کے بغیر تو نماز نہیں ہوتی اس طرح دونوں حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے کہ مقتدی جہری نمازوں میں جب امام قرآءت کرتا ہے تو اس کے پیچھے صرف فاتحہ چپکے چپکے پڑھے گا اور بعد والی قرآءت پوری توجہ سے سنے گا خود نہیں پڑھے گا اور سری نمازوں میں چونکہ قرآءت بلند نہیں ہوتی اس لیے امام کی قرآءت سننے کا احتمال نہیں ہوتا۔
اس لیے وہاں مقتدی اپنی قرآءت کرے گا۔
(2)
امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (وَإِذَا قَرأالْإِمَامُ فَانْصِتُوْا)
کو صحیح تسلیم کیا ہے لیکن چونکہ اس کی صحت پر اتفاق نہیں اس لیے اس کو صحیح مسلم میں درج نہیں کیا،
جس سے معلوم ہوا امام مسلم اپنی صحیح میں صرف ان روایات کو بیان کرتے ہیں،
جوتمام آئمہ محدثین کے مسلمہ قواعد وضوابط کے مطابق صحیح ہیں اور اس لحاظ سے ان سب کی صحت پر سب کا اتفاق ہونا چاہیے۔
(3)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ (وَإِذَا قَرأالْإِمَامُ فَانْصِتُوْا)
اور اسی طرح سلیمان کی حدیث کے ان الفاظ کی صحت کے بارے میں آئمہ حدیث میں اختلاف ہے امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ سجستانی رحمۃ اللہ علیہ،
یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ،
ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ،
دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ اور ابو علی نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ ان الفاظ کو درست قرار نہیں دیتے،
ان کے نزدیک (هَذِهِ اللَّفْظَةُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ)
قتادہ کے تمام شاگرد ان الفاظ میں سلیمان حیمی کی مخالفت کرتے ہیں۔
(4)
تشہد کے کلمات مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے معمولی سے لفظی اختلاف کے ساتھ بیان کیے ہیں امام مسلم نے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما،
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تشہد نقل کیا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے الفاظ نقل نہیں کیے۔
اپنی جگہ تمام ہی صحیح ہیں اور کسی کو بھی پڑھا جا سکتا ہے افضل کے بارے میں آئمہ میں اختلاف ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،
اور اہل حدیث اور جمہور فقہاء کے نزدیک ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما والا تشہد افضل ہے کیونکہ سب سے زیادہ صحیح ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور بعض مالکیوں کے نزدیک ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما والا تشہد افضل ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر موقوف تشہد افضل ہے کیونکہ انھوں نے یہ تشہد منبر پر سکھایا تھا لیکن ظاہر ہے موقوف کو مرفوع پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پہلے قعدہ میں تشہد پڑھنا سنت ہے اور اسلام والا تشہد واجب ہے جمہور محدثین کے نزدیک دونوں ہی واجب ہیں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،
پہلے کو واجب اور دوسرے کو فرض قراردیتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور فقہاء کے نزدیک دونوں سنت ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 905]