علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب التشهد في الصلاة:
باب: نماز میں تشہد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 404 ترقیم شاملہ: -- 904
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ صَلَاةً، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ، انْصَرَفَ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ثُمّ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا، قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا، وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لَيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذْ قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللَّهُ، فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ، فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ، فَكَبِّرُوا، وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ، الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "،
ابوعوانہ نے قتادہ سے، انہوں نے یونس بن جبیر سے اور انہوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک نماز پڑھی، جب وہ قعدہ (نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنے) کے قریب تھے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز کو نیکی اور زکاۃ کے ساتھ رکھا گیا ہے؟ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو مڑے اور کہا: تم میں سے یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو سب لوگ مارے ہیبت کے چپ رہے، انہوں نے پھر کہا: تم میں سے یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو لوگ ہیبت کے مارے پھر چپ رہے تو انہوں نے کہا: اے حطان! لگتا ہے تو نے یہ بات کہی؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ نہیں کہا، البتہ مجھے ڈر تھا کہ آپ اس کے سبب میری سرزنش کریں گے۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اس سے بھلائی کے سوا اور کچھ نہ چاہا تھا۔ تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز میں کیسے کہنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، آپ نے ہمارے لیے ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی۔ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو، پھر تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم «آمِينَ» کہو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (مقتدی کی طرف سے رکوع میں جانے کی) یہ (تاخیر) اس (تاخیر) کا بدل ہو گی (جو رکوع سے سر اٹھانے میں ہو گی) اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» (اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی) کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» (اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے) کہو، اللہ تمہاری (بات) سنے گا، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اور جب امام تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ (تاخیر) اس (تاخیر) کا بدل ہو گی اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تمہارا پہلا بول (یہ) ہو: بقا و بادشاہت، اختیار و عظمت، سب پاک چیزیں اور ساری دعائیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 904]
حطان بن عبداللہ رقاشی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک نماز ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی معیت میں پڑھی تو جب بیٹھنے کا وقت آیا، ایک شخص نے کہا، نماز نیکی اور زکوٰة کے ساتھ ملائی گئی ہے، جب ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی اور سلام پھیر کر منہ موڑا تو پوچھا، یہ کلمہ تم میں سے کس نے کہا ہے؟ سب لوگ چپ رہے انہوں نے پھر پوچھا، تم میں سے کس نے یہ بات کہی؟ تو لوگ چپ رہے تو انہوں نے کہا، اے حطان! شاید تو نے یہ کلمہ کہا ہے؟ میں نے کہا میں نے نہیں کہا ہے، مجھے خوف تھا کہ آپ مجھے اس کے سبب سرزنش کریں گے تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا، میں نے یہ کلمہ کہا ہے، اور میں نے اس سے صرف خیر ہی کا ارادہ کیا ہے تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، کیا تم جانتے نہیں ہو، تمہیں اپنی نماز میں کیا کہنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمارے لیے، ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو، پھر تم میں سے ایک تمہاری امامت کرائے، جب وہ تکبیر کہہ چکے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا، وہ تمہیں شرف قبولیت بخشے گا، اور جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہہ کر رکوع کرو اور امام تم سے پہلے رکوع میں جاتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تقدیم و تاخیر سے برابر ہو گیا۔ اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اے اللہ، ہمارے رب تو ہی حمد کا حقدار ہے۔ اللہ تمہاری دعا سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ نے جس نے اس کی حمد و تعریف سن لی۔ اور جب امام «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہہ کر سجدہ کرے تو تم «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو اور سجدہ کرو، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ میں جاتا اور تم سے پہلے سجدہ سے اٹھتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبل و بعد (تقدیم و تاخیر) سے کام برابر ہو گیا، (امام نے سجدہ پہلے کیا، پہلے اٹھا، تم نے سجدہ بعد میں کیا، اور بعد میں اٹھے) اور جب بیٹھنے کا وقت آئے تو تم اس سے آغاز کرو «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» بدنی اور مالی عبادتیں، اللہ ہی کے لیے ہیں، سلامتی ہو، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور بندگی کے لائق نہیں اور میں اس کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر (فرستادہ) ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 904]
ترقیم فوادعبدالباقی: 404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
904
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذ قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن أبي داود |
972
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1065
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر الإمام فكبروا وإذا قرأ غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1173
| أقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1281
| إذا قمتم إلى الصلاة فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال ولا الضالين |
Sahih Muslim Hadith 904 in Urdu
حطان بن عبد الله البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري