🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب ما جاء فى إفلاس الغريم
قرض دار کے مفلس ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَالَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ، پھر مشتری مفلس ہو گیا اور بائع نے اپنی چیز بعینہ مشتری کے پاس پائی، تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2402، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1559، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2327، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4680، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6228، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3519، 3520، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1262، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2632، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2358، 2359، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11357، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7245، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1065، 1066، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6470، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 88»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newأبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عمر بن عبد العزيز الأموي، أبو حفص
Newعمر بن عبد العزيز الأموي ← أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي
ثقة مأمون
👤←👥أبو بكر بن عمرو الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمرو الأنصاري ← عمر بن عبد العزيز الأموي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← أبو بكر بن عمرو الأنصاري
ثقة ثبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385B1
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الْمُبْتَاعُ، فَإِنَّ الْبَائِعَ إِذَا وَجَدَ شَيْئًا مِنْ مَتَاعِهِ بِعَيْنِهِ أَخَذَهُ، وَإِنْ كَانَ الْمُشْتَرِي قَدْ بَاعَ بَعْضَهُ، وَفَرَّقَهُ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ، لَا يَمْنَعُهُ مَا فَرَّقَ الْمُبْتَاعُ مِنْهُ، أَنْ يَأْخُذَ مَا وَجَدَ بِعَيْنِهِ، فَإِنِ اقْتَضَى مِنْ ثَمَنِ الْمُبْتَاعِ شَيْئًا فَأَحَبَّ أَنْ يَرُدَّهُ وَيَقْبِضَ مَا وَجَدَ مِنْ مَتَاعِهِ، وَيَكُونَ فِيمَا لَمْ يَجِدْ أُسْوَةَ الْغُرَمَاءِ فَذَلِكَ لَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے کوئی اسباب بیچا، پھر مشتری مفلس ہوگیا اور بائع نے اپنی چیز بعینہ مشتری کے پاس پائی، تو بائع اس کو لے لے گا، اگر مشتری نے اس میں سے کچھ بیچ ڈالا ہے، تو جس قدر باقی ہے اس کا بائع زیادہ حقدار ہے، بہ نسبت اور قرض خواہوں کے۔ اگر بائع تھوڑی سی ثمن پا چکا ہے، پھر بائع یہ چاہے کہ اس ثمن کو پھیر کر جس قدر اسباب اپنا باقی ہے اس کو لے لے، اور جو کچھ باقی رہ جائے اس میں اور قرض خواہوں کے برابر رہے، تو ہو سکتا ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1385B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 88»
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385B2
قَالَ مَالِكٌ: وَمَنِ اشْتَرَى سِلْعَةً مِنَ السِّلَعِ غَزْلًا أَوْ مَتَاعًا أَوْ بُقْعَةً مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ الْمُشْتَرَى عَمَلًا بَنَى الْبُقْعَةَ دَارًا، أَوْ نَسَجَ الْغَزْلَ ثَوْبًا، ثُمَّ أَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَبُّ الْبُقْعَةِ أَنَا آخُذُ الْبُقْعَةَ وَمَا فِيهَا مِنَ الْبُنْيَانِ، إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لَهُ، وَلَكِنْ تُقَوَّمُ الْبُقْعَةُ وَمَا فِيهَا، مِمَّا أَصْلَحَ الْمُشْتَرِي ثُمَّ يُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُ الْبُقْعَةِ؟ وَكَمْ ثَمَنُ الْبُنْيَانِ مِنْ تِلْكَ الْقِيمَةِ؟ ثُمَّ يَكُونَانِ شَرِيكَيْنِ فِي ذَلِكَ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ، بِقَدْرِ حِصَّتِهِ وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ بِقَدْرِ حِصَّةِ الْبُنْيَانِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے سوت یا زمین خریدی پھر سوت کا کپڑا بن لیا اور زمین پر مکان بنایا، بعد اس کے مشتری مفلس ہوگیا، اب زمین کا بائع یہ کہے کہ میں زمین اور مکان سب لیے لیتا ہوں، تو یہ نہیں ہو سکتا، بلکہ زمین کی اور عملے کی قیمت لگائیں گے، پھر دیکھیں گے اس قیمت کا حصّہ زمین پر کتنا آتا ہے، اور عملے پر کتنا آتا ہے، اب بائع اور مشتری دونوں اس میں شریک رہیں گے، زمین کا مالک اپنے حصّہ کے موافق اور باقی قرض خواہ عملے کے موافق۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1385B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 88»
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385B3
قَالَ مَالِكٌ: وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ تَكُونَ قِيمَةُ ذَلِكَ كُلِّهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَتَكُونُ قِيمَةُ الْبُقْعَةِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَقِيمَةُ الْبُنْيَانِ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَيَكُونُ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الثُّلُثُ، وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ الثُّلُثَانِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی مثال یہ ہے: جیسے زمین اور عملے کی قیمت پندرہ سو ہوئی، اس میں سے زمین کی قیمت پانچ سو ہے اور عملے کی ہزار ہے، تو زمین والے کا ایک تہائی ہوگا، اور باقی قرض خواہوں کے دو تہائی ہوں گے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1385B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 88»
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385B4
قَالَ مَالِكٌ: وَكَذَلِكَ الْغَزْلُ وَغَيْرُهُ مِمَّا أَشْبَهَهُ، إِذَا دَخَلَهُ هَذَا، وَلَحِقَ الْمُشْتَرِيَ دَيْنٌ لَا وَفَاءَ لَهُ عِنْدَهُ، وَهَذَا الْعَمَلُ فِيهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہی حکم سوت میں ہے جب کہ مشتری نے اس کو بن لیا، بعد اس کے قرضدار ہو کر مفلس ہوگیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1385B4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 88»
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385B5
قَالَ مَالِكٌ: فَأَمَّا مَا بِيعَ مِنَ السِّلَعِ الَّتِي لَمْ يُحْدِثْ فِيهَا الْمُبْتَاعُ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ نَفَقَتْ، وَارْتَفَعَ ثَمَنُهَا، فَصَاحِبُهَا يَرْغَبُ فِيهَا، وَالْغُرَمَاءُ يُرِيدُونَ إِمْسَاكَهَا، فَإِنَّ الْغُرَمَاءَ يُخَيَّرُونَ بَيْنَ أَنْ: يُعْطُوا رَبَّ السِّلْعَةِ الثَّمَنَ الَّذِي بَاعَهَا بِهِ، وَلَا يُنَقِّصُوهُ شَيْئًا، وَبَيْنَ أَنْ يُسَلِّمُوا إِلَيْهِ سِلْعَتَهُ، وَإِنْ كَانَتِ السِّلْعَةُ قَدْ نَقَصَ ثَمَنُهَا، فَالَّذِي بَاعَهَا بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ سِلْعَتَهُ، وَلَا تِبَاعَةَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ مَالِ غَرِيمِهِ، فَذَلِكَ لَهُ. وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَكُونَ غَرِيمًا مِنَ الْغُرَمَاءِ يُحَاصُّ بِحَقِّهِ، وَلَا يَأْخُذُ سِلْعَتَهُ فَذَلِكَ لَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مشتری نے اس چیز میں تصرف نہیں کیا، مگر اس چیز کی قیمت بڑھ گئی، اب بائع یہ چاہتا ہے کہ اپنی شئے پھیر لے، اور قرض خواہ چاہتے ہیں کہ وہ شئے بائع کو نہ دیں، تو قرض خواہوں کو اختیار ہے، خواہ بائع کی ثمن پوری پوری حوالے کردیں۔ اگر اس چیز کی قیمت گھٹ گئی تو بائع کو اختیار ہے، خواہ اپنی چیز لے لے، پھر اس کو مشتری کے مال سے کچھ غرض نہ ہوگی، خواہ اپنی چیز نہ لے اور قرض خواہوں کے ساتھ شریک ہوجائے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1385B5]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 88»
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385B6
قَالَ مَالِكٌ: فِيمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً أَوْ دَابَّةً فَوَلَدَتْ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَفْلَسَ الْمُشْتَرِي، فَإِنَّ الْجَارِيَةَ أَوِ الدَّابَّةَ وَوَلَدَهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَرْغَبَ الْغُرَمَاءُ فِي ذَلِكَ فَيُعْطُونَهُ حَقَّهُ كَامِلًا، وَيُمْسِكُونَ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے لونڈی خریدی یا جانور خریدا، پھر اس لونڈی یا جانور کا مشتری کے پاس آن کر بچہ پیدا ہوا، بعد اس کے مشتری مفلس ہوگیا، تو وہ بچہ بائع کا ہوگا، البتہ اگر قرض خواہ بائع کی پوری ثمن ادا کردیں تو بچہ کو اور اس کی ماں کو دونوں کو رکھ سکتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1385B6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 88»
 
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1385 in Urdu