🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في ثواب قراءة القرآن
باب: قرآن پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1452
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فضائل القرآن 21 (2907)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 15 (2907، 2908)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 16 (212)، (تحفة الأشراف:9813)، وقد أخرجہ: ن الکبری/فضائل القرآن (8037)، مسند احمد (1/57، 58، 69)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 2 (3341) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5027)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الله بن حبيب السلمي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن حبيب السلمي ← عثمان بن عفان
ثقة ثبت
👤←👥سعد بن عبيدة السلمي، أبو حمزة
Newسعد بن عبيدة السلمي ← عبد الله بن حبيب السلمي
ثقة
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث
Newعلقمة بن مرثد الحضرمي ← سعد بن عبيدة السلمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← علقمة بن مرثد الحضرمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر
Newحفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5027
خيركم من تعلم القرآن وعلمه
صحيح البخاري
5028
أفضلكم من تعلم القرآن وعلمه
جامع الترمذي
2907
خيركم من تعلم القرآن وعلمه
جامع الترمذي
2908
أفضلكم من تعلم القرآن وعلمه
سنن أبي داود
1452
خيركم من تعلم القرآن وعلمه
سنن ابن ماجه
211
أفضلكم من تعلم القرآن وعلمه
سنن ابن ماجه
212
أفضلكم من تعلم القرآن وعلمه
المعجم الصغير للطبراني
1103
خياركم من تعلم القرآن وعلمه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1452 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1452
1452. اردو حاشیہ: تعلیم قرآن کریم کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی بھی ضمناً اس شرف میں شامل ہے۔ کیونکہ یہ قرآن کی تفسیر اور اس کا نبوی بیان ہے۔اور بالتبع دیگر علوم شرعیہ بھی۔ اور یہ حدیث معلمین قرآن وسنت کے لئے فخر وانبساط کا باعث ہے۔ اہل دنیا خواہ انہیں کسی نظر سے دیکھیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1452]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث211
قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب۔
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (شعبہ کہتے ہیں:) تم میں سب سے بہتر (کہا)، (اور سفیان نے کہا:) تم میں سب سے افضل (کہا) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 211]
اردو حاشہ:
(1)
قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، لہذا اس کا علم حاصل کرنا بھی دوسرے علوم سے افضل ہے اور اس کی تعلیم دینا بھی دوسرے علوم پڑھانے سے افضل ہے۔

(2)
اللہ تعالیٰ کے ہاں بندوں کی افضیلت کا دارومدار اعمال پر ہے جب کہ دنیا میں عام طور پر مال و دولت، حسن و جمال، یا عہدہ و منصب کو افضیلت کا معیار سمجھا جاتا ہے جو درست نہیں۔

(3)
اس حدیث میں قرآن مجید کا علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے کی ترغیب ہے۔

(4)
قرآن مجید کے علم میں قرآن مجید کے الفاظ کی تلاوت و تجوید سیکھنا اور سکھانا بھی شامل ہے اور اس کا ترجمہ و تفسیر بھی، چونکہ حدیث نبوی بھی قرآن کی وضاحت ہے، اس لیے حدیث کا علم حاصل کرنے والا اور اس کی تعلیم دینے والا بھی اس شرف میں شریک ہے۔

(5)
قرآن پر عمل نہ کرنے والا اس شرف میں شریک نہیں جیسے کہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 211]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5027
5027. سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابو عبدالرحمن سلمی نے سیدنا عثمان بن عفان ؓ کے زمانہ خلافت سے لے کر حجاج بن یوسف کے زمانہ امارت تک لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی وہ کہا کرتے تھے: یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ تعلیم قرآن کے لیے بٹھا رکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5027]
حدیث حاشیہ:
آج بھی کتنے خوش قسمت بزرگ ایسے ملیں گے جنہوں نے تعلیم قرآن میں اپنی ساری عمروں کو ختم کر دیا ہے بلکہ اسی حال میں وہ اللہ سے جاملے ہیں۔
رحم اللہ أجمعین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5027]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5027
5027. سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابو عبدالرحمن سلمی نے سیدنا عثمان بن عفان ؓ کے زمانہ خلافت سے لے کر حجاج بن یوسف کے زمانہ امارت تک لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی وہ کہا کرتے تھے: یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ تعلیم قرآن کے لیے بٹھا رکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5027]
حدیث حاشیہ:

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابتدائے خلافت سے حجاج بن یوسف کی امارت کے انتہا تک تقریباً بہتر(72)
سال کی مدت ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آخر سے حجاج بن یوسف کی امارت کے آغاز تک تقریباً اڑتیس (38)
سال کا وقفہ ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے کب پڑھانا شروع کی اور کب اس کی انتہا ہوئی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا پڑھنا پڑھانا تمام نیک اعمال سے افضل ہے کیونکہ اس حدیث کے مطابق قرآن مجید پڑھنے پڑھانے والا تمام لوگوں سے بہترہے قرآن پڑھنا اور پڑھانا لازمی طور پر سب نیک اعمال سے افضل ہوگا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کا قاری قرآن کریم کے فقیہ سے افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا قاری بہت بڑا فقیہ ہوتا تھا نماز کی جماعت کے لیے قاری کو اس لیے مقدم کیا گیا ہے کہ وہ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ بھی ہوتا تھا۔
(فتح الباري: 97/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5027]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5028
5028. سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تم سب میں سے افضل وہ ہے جو قرآن مجہد خود سیکھے اور دوسروں کو سکھلائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5028]
حدیث حاشیہ:

اگر کوئی شخص رات بھر عبادت کرتا رہے وہ اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا۔
جو رات کے وقت صرف ایک گھنٹہ فہم قرآن میں صرف کردے اور قرآن کریم کے مطالب و معانی کی تحقیق میں کچھ وقت گزارے۔

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ جہاد اور تعلیم قرآن میں سے کون سا عمل افضل ہےتو انھوں نے قرآنی تعلیم کو ترجیح دی اور بطور دلیل یہی حدیث بیان فرمائی۔
(فتح الباري: 97/9)
اللہ تعالیٰ نے کسی جاہل کو کبھی اپنا ولی قرار نہیں دیا اور جاہل سے مراد وہ شخص ہے جسے بقدر ضرورت بھی قرآن کریم سے آشنائی نہ ہو بلکہ وہ اس سے بالکل بے بہرہ ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5028]