Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب في الانتضاح
باب: وضو کے بعد شرمگاہ (ستر) پر پانی چھڑکنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَوِ ابْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ".
حکم یا ابن حکم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3420) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وضو کے بعد تھوڑا سا پانی پاجامہ کی میانی پر چھڑک لے، تاکہ وہاں پیشاب کا قطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہو جائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی عمدہ تدبیر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سکھلائی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابقين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحكم بن سفيان الثقفيوالراجح أنه تابعي ضعيف الحديث، مختلف في صحبته
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← الحكم بن سفيان الثقفي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة ثبت
👤←👥معاوية بن عمرو الأزدي، أبو عمرو
Newمعاوية بن عمرو الأزدي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة
👤←👥نصر بن المهاجر المصيصي، أبو بكر
Newنصر بن المهاجر المصيصي ← معاوية بن عمرو الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
134
إذا توضأ أخذ حفنة من ماء فقال بها هكذا
سنن النسائى الصغرى
135
توضأ ونضح فرجه
سنن أبي داود
166
بال يتوضأ وينتضح
سنن أبي داود
167
بال ثم نضح فرجه
سنن أبي داود
168
بال ثم توضأ ونضح فرجه
سنن ابن ماجه
326
بال أحدكم فلينتر ذكره ثلاث مرات
سنن ابن ماجه
461
توضأ ثم أخذ كفا من ماء فنضح به فرجه
بلوغ المرام
92
إذا بال احدكم فلينتر ذكره ثلاث مرات
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 168 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 168
وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی چھڑکنے کی سنت
13: وضو کے بعدشرمگاہ پر پانی چھڑکنا چاہئے۔ [سنن ابي داود: 168 وسنده حسن]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب وضو کرتے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه ج 1 ص 167 ح 1775 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
اگر تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو مٹھی بھر پانی لے کر اپنی شرمگاہ پر چھڑک لے۔ اس کے بعد اگر اسے (وسوسے کی وجہ سے) کچھ (تری) محسوس ہو تو یہ سمجھے کہ یہ اسی پانی سے ہے (جو میں نے چھڑکا ہے۔)
[مسند مسدد بحواله المطالب العالية: 117 و سنده صحيح، وقال ابن حجر: صحيح موقوف / مختصر المطالب العالية: 117]
تنبیہ: وضوکے بعد رومالی پر پانی چھڑکنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 2 صفحہ 200 تا 204)
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 200]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 168
فوائد و مسائل:
وضو کے بعد شرم گاہ والی جگہ پر چھینٹے مار لینا مسنون و مستحب ہے۔ سنت پر ثواب کے علاوہ یہ فائدہ بھی ہے کہ مثانہ کی کمزوری کے باعث بعض اوقات قطرات آ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اس سے وسواس کا دفعیہ (خاتمہ) ہو جاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 168]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 92
پیشاب سے فراغت کے بعد عضو مخصوص کو تین مرتبہ سوتنا یا جھاڑنا
«. . . وعن عيسى بن يزداد (برداد) ‏‏‏‏ عن ابيه رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏إذا بال احدكم فلينتر ذكره ثلاث مرات . . .»
. . . سیدنا عیسیٰ بن یزدار نے اپنے والد سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی پیشاب کرے تو عضو مخصوص کو تین مرتبہ جھاڑ لے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 92]
لغوی تشریح:
«فَلْيَنْتُرْ» نتر سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد عضو مخصوص کو کھینچ کر نچوڑ لے، یعنی زور سے دبا کر کھینچے تاکہ اس کے اندر پیشاب کے جو قطرات باقی ہیں، وہ نکل جائیں۔ بعض نسخوں میں «فَلْيَنْتُرْ» کی بجائے «فَلْيَنْثُرْ» کے الفاظ ہیں، یعنی تا کی بجائے ثا ہے۔ تاہم مفہوم دونوں کا تقریباً ایک ہی ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ پیشاب سے فراغت کے بعد عضو مخصوص کو تین مرتبہ سوتنا یا جھاڑنا اس لیے ہے کہ اگر قابل خارج قطرہ پیشاب کہیں رک گیا ہو تو وہ خارج ہو جائے اور پوری طرح اطمینان ہو جائے۔
➋ یہ روایت گو ضعیف ہے مگر پیشاب کے قطروں سے محفوظ رہنے کی روایت اس کی مؤید ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ انھیں عذاب قبر اس لیے ہو رہا ہے کہ وہ پیشاب کے قطروں سے بچتے نہ تھے۔

راویٔ حدیث: (عیسیٰ بن یزداد) یہ دونوں باپ بیٹا مجہول ہیں۔ ابن معین کہتے ہیں: عیسیٰ اور اس کے باپ کی کوئی جان پہچان نہیں ہے۔ عقیلی کہتے ہیں: ان کی متابعت نہیں کی گئی اور نہ ان کا تعارف ہے۔ یزداد کو یا اور زا کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور با اور را سے بھی پڑھا گیا ہے، یعنی برداد۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 92]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 134
پانی چھڑکنے کا بیان۔
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، (خالد بن حارث کہتے ہیں) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 134]
134۔ اردو حاشیہ:
➊ شرم گاہ پر چھینٹے مارنا وضو کا حصہ نہیں ہے، تاہم مسنون عمل ہے۔
➋ اس عمل کی حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ کبھی انسان کو کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے یہ شبہ پڑ جاتا ہے کہ پیشاب کا کوئی قطرہ نکلا ہے، ایسا انسان معذور ہے، لہٰذا اس عذر کے پیش نظر یا شبہ دور کرنے کے لیے یہ طریقہ تجویز کیا گیا کہ وضو کے بعد شرم گاہ پر چھینٹے مارے جائیں تو شبہ دور ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ۔
➌ جس آدمی کو مندرجہ بالا صورت حال پیش آئے وہ ایسا کر لے اور جسے یہ صورت پیش نہ آئے اس کے لیے بھی چلو بھر پانی سے چھینٹے مارنا مسنون ہے کیونکہ مذکورہ وجہ اور علت حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
➍ بعض محققین کا خیال ہے کہ وہ آدمی جو تندرست ہو اور سلس البول کا مریض بھی نہ ہو، اور پیشاب سے اچھی طرح فراغت کے بغیر ہی کھڑا ہو جاتا ہو، نیز اسے وضو کرنے کے بعد یا اثنائے نماز قطرہ گرنے کا یقین بھی ہو تو ایسے آدمی کو چھینٹے کفایت نہ کریں گے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیشاب سے آلودہ مقام دھوئے اور پھر وضو کر کے نماز پڑھے کیونکہ پیشاب نجس ہے، خواہ وہ قطرہ ہو یا اس سے زیادہ۔ دلائل کے اعتبار سے یہ موقف مضبوط اور راجح معلوم ہوتا ہے۔ واللہ أعلم۔
«تَوَضَّأَ» کے معنی ہوں گے، جب وضو سے فارغ ہوتے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 134]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 135
پانی چھڑکنے کا بیان۔
حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں «و نضح فرجه» کی جگہ «فنضح فرجه» ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 135]
135۔ اردو حاشیہ: مذکورہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنے دو اساتذہ عباس بن محمد دوری اور احمد بن حرب سے بیان کی ہے جیسا کہ سند پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا الفاظ سے امام صاحب کا مقصد یہ ہے کہ میرے ایک استاذ نے «ونَضَحَ فَرْجَهُ» کہا:، جب کہ دوسرے استاد نے «فَنَضَحَ فَرْجَهُ» کہا:۔ گویا واو اور فاء کا فرق ہے۔ فء ترتیب کا تقاضا کرتی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام وضو کی تکمیل کے بعد کیا۔ واو میں یہ مفہوم نہیں ہوتا۔ ایسے باریک اختلافات کو ضبط کرنا محدثین کی امانت و دیانت اور محنت شاقہ کی واضح دلیل ہے۔ رحمھم اللہ رحمة واسعة۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 135]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث461
وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان۔
حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 461]
اردو حاشہ:
(1)
یہ عمل وضو کا حصہ نہیں تاہم وضو کے بعد ایسا کرنا سنت ہے۔

(2)
جسم کے خاص حصے (شرم گاہ)
پر پانی چھڑکنے کا مطلب اس کپڑے پر پانی کے چھینٹے ڈالنا ہے جس سے جسم کا وہ حصہ چھپا ہوا ہے۔

(3)
علمائے کرام نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ اس سے پیشاب کا قطرہ نکل جانے کے وسوسے کا ازالہ ہوجاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 461]