🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب الدفعة من عرفة
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر (ارکان عرفات سے فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1922]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر درمیانی چال «الْعَنَقُ» (عنق) سے روانہ ہوئے اور لوگ دائیں بائیں اونٹوں کو پیٹ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور فرما رہے تھے: لوگو! سکون کے ساتھ! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 554 (885)، (تحفة الأشراف: 10229)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/72، 75، 76، 81) (حسن)» ‏‏‏‏ (مگر «لا یلتفت» کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ «یلتفت» ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله لا يلتفت والمحفوظ يلتفت وصححه الترمذي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (885) وانظر الحديث الآتي (1935)
سفيان الثوري مدلس وعنعن
وحديث أحمد (1/ 76) سنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبيد الله بن أسلم المدني
Newعبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي زين العابدين ← عبيد الله بن أسلم المدني
ثقة ثبت
👤←👥زيد بن علي الهاشمي، أبو الحسين
Newزيد بن علي الهاشمي ← علي زين العابدين
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عياش الأنصاري
Newعبد الرحمن بن عياش الأنصاري ← زيد بن علي الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عياش الأنصاري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ فاضل
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة حافظ فقيه حجة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1922 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1922
1922. اردو حاشیہ: سنن ابی دائود کے اکثر نسخوں میں (لايلتفت اليهم)کالفظ آیا ہے۔مگر بذل المجہود میں مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری نے لکھا ہے۔کہ جامع ترمذی مسند احمد اور سنن بہیقی کی بعض اسانید میں لفظ لا موجود نہیں ہے اس طرح کوئی اشکال نہیں رہتا۔مگر مسند احمد کی سند میں (لايلتفت) ہی آیا ہے۔جبکہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح سنن ابی دائود میں اس کو غیر محفوظ لکھا ہے۔(لايلتفت) کالفظ ہی صحیح ہے۔یعنی آپ لوگوں کی طرف ملتفت ہو رہے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1922]

Sunan Abi Dawud Hadith 1922 in Urdu