پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في الولي
باب: ولی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2083
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا، فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار فرمایا، (پھر فرمایا) ”اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں ۱؎ تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2083]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔ ”اگر شوہر اس سے صحبت کر لے تو اس کو مہر دینا پڑے گا بسبب اس کے جو اس نے اس سے فائدہ حاصل کیا۔ اگر (ولیوں کا) جھگڑا ہو جائے تو حاکم ولی ہے اس کا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 14 (1102)، سنن ابن ماجہ/النکاح 15 (1879)، (تحفة الأشراف: 16462)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ النکاح (5394)، مسند احمد (6/66، 166، 260)، سنن الدارمی/النکاح 11 (2230) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً ایک عورت کے دو بھائی ہوں ایک کسی کے ساتھ اس کا نکاح کرنا چاہے دوسرا کسی دوسرے کے ساتھ اور عورت نابالغ ہو اور یہ اختلاف نکاح ہونے میں آڑے آئے اور نکاح نہ ہونے دے تو ایسی صورت میں یہ فرض کر کے کہ گویا اس کا کوئی ولی ہی نہیں ہے سلطان اس کا ولی ہو گا ورنہ ولی کی موجودگی میں سلطان کو ولایت کا حق حاصل نہیں۔
۲؎: اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے، خواہ عورت بالغ ہو یا نابالغ، یہی ائمہ حدیث کا مذہب ہے۔
۲؎: اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے، خواہ عورت بالغ ہو یا نابالغ، یہی ائمہ حدیث کا مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3131)
أخرجه الترمذي (1102 وسنده صحيح) ابن جريج سمعه من سليمان بن موسٰي والزھري سمعه من عروة وأعل بما لايقدح
مشكوة المصابيح (3131)
أخرجه الترمذي (1102 وسنده صحيح) ابن جريج سمعه من سليمان بن موسٰي والزھري سمعه من عروة وأعل بما لايقدح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو الربيع، أبو أيوب، أبو هاشم سليمان بن موسى القرشي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← سليمان بن موسى القرشي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← ابن جريج المكي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله محمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2083
| نكحت بغير إذن مواليها فنكاحها باطل ثلاث مرات إن دخل بها فالمهر لها بما أصاب منها إن تشاجروا فالسلطان ولي من لا ولي له |
سنن ابن ماجه |
1879
| أيما امرأة لم ينكحها الولي فنكاحها باطل إن أصابها فلها مهرها بما أصاب منها إن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له |
بلوغ المرام |
836
| أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل ، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها ، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له |
Sunan Abi Dawud Hadith 2083 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق