یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. باب في الأسير يوثق
باب: قیدی کے باندھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ، وَكُنْتُ فِيهِمْ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيدِ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: إِنْ تَكُنْ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقُ مِنْكَ فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا.
جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا، میں بھی انہیں میں تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بنو الملوح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں، چنانچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن برصاء لیثی سے ملے، ہم نے اسے پکڑ لیا، وہ کہنے لگا: میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف جا رہا تھا، ہم نے کہا: اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن ایک رات کا ہمارا باندھنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر تم مسلمان نہیں ہو تو ہم تمہیں مضبوطی سے باندھیں گے، پھر ہم نے اس کو مضبوطی سے باندھ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2678]
سیدنا جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ دے کر روانہ کیا، میں ان لوگوں میں شامل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”مقام کدید میں بنی ملوح پر (ہر طرف سے) چڑھائی کرنا۔“ چنانچہ ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ مقام کدید پر پہنچ گئے۔ ہم کو حارث بن برصاء لیثی ملا، ہم نے اس کو پکڑ لیا، اس نے کہا: ”میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں جانے کی نیت ہی سے نکلا ہوں۔“ ہم نے اس سے کہا: ”اگر تو فی الواقع مسلمان ہے، تو ہمارا تجھے ایک دن اور رات کے لیے باندھ لینا تیرے لیے کوئی نقصان دہ نہیں ہے، اور اگر تو ایسے نہ ہوا تو (تجھے باندھ کر) ہم تیری طرف سے بے فکر ہو جائیں گے۔“ چنانچہ ہم نے اس کو رسی سے جکڑ لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3270)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/467، 468) (ضعیف)» (اس کے راوی مسلم جہنی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم بن عبد اللّٰه بن خبيب الجھني :مجهول (تقريب التهذيب: 6634)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
إسناده ضعيف
مسلم بن عبد اللّٰه بن خبيب الجھني :مجهول (تقريب التهذيب: 6634)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2678
| إن تكن مسلما لم يضرك رباطنا يوما وليلة وإن تكن غير ذلك نستوثق منك فشددناه وثاقا |
Sunan Abi Dawud Hadith 2678 in Urdu
مسلم بن عبد الله الجهني ← جندب بن مكيث الجهني