🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب هل يرث المسلم الكافر
باب: کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دین والے (یعنی مسلمان اور کافر) کبھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2911]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مختلف ملتوں (اور دینوں) والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8669)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 16 (2109)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2732)، مسند احمد (2/178، 195) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3046)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥حبيب بن زائدة المعلم، أبو محمد
Newحبيب بن زائدة المعلم ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← حبيب بن زائدة المعلم
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2911
لا يتوارث أهل ملتين شتى
سنن ابن ماجه
2731
لا يتوارث أهل ملتين
بلوغ المرام
808
لا يتوارث أهل ملتين
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2911 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2911
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس سے مراد مسلمان اور کافر ہیں۔
جبکہ کفار اپنے مختلف دینوں پر ہوتے ہوئے بھی ایک ملت ہیں، اس لئے ان کی آپس میں وراثت چلتی ہے۔
جبکہ امام زہری ابن ابی لیلیٰ اور احمد بن حنبل کے اقوال ہیں کہ یہودی نصرانی کا وارث نہیں۔
مجوسی یہودی کا نہیں۔
وغیرہ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2911]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2731
مسلمان اور کافر و مشرک ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مذہب والے (جیسے کافر اور مسلمان) ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2731]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دو مختلف ملتوں (قوموں)
سے مراد، ملت اسلام اورملت کفر ہے۔

(2)
ایک غیرمسلم دوسرے غیر مسلم کا وارث ہوتا ہے، خواہ ان کا مذہب ایک دوسرے سے مختلف ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2731]

Sunan Abi Dawud Hadith 2911 in Urdu