🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب في أرزاق العمال
باب: ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2943
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم جس کو کسی کام کا عامل بنائیں اور ہم اس کی کچھ روزی (تنخواہ) مقرر کر دیں پھر وہ اپنے مقررہ حصے سے جو زیادہ لے گا تو وہ (مال غنیمت میں) خیانت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1957) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3748)
صححه ابن خزيمة (2369 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة ثبت
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة ثبت
👤←👥زيد بن أخزم الطائي، أبو طالب
Newزيد بن أخزم الطائي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2943
من استعملناه على عمل فرزقناه رزقا فما أخذ بعد ذلك فهو غلول
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2943 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2943
فوائد ومسائل:
دیگر حکومتی اور پرایئویٹ اداروں میں ملازم لوگوں کےلئے اس حدیث میں انتہائی تنبیہ ہے کہ تنخواہ اور معروف تعاون جو ادارہ اپنے کارکنان کے ساتھ کرتا ہو، اس کے علاوہ غلط انداز سے مذید مال یا فوائد حاصل کرنا بہت بڑی اور بُری خیانت ہے۔
خواہ عوام انہیں دیں۔
(اس منصبی ذمہ داری کے عوض میں) یا وہ عوام سے مطالبہ کریں۔
یا حیلے بہانے سے یا چوری چھپے اپنے تحویل میں دیئے گئے فنڈز سے سمیٹنے کی کوشش کریں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2943]