سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في قسم الفىء
باب: فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ جَمِيعًا، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهُ فِي يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا"، زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى: فَدُعِينَا وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارٍ فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَعْطَى لَهُ حَظًّا وَاحِدًا.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا (کیونکہ وہ کنوارے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2953]
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مالِ فے آ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیوی والے کو دو حصے اور مجرد کو ایک حصہ دیتے۔“ ابن مصفٰی کی روایت میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: ”ہمیں بھی بلایا گیا اور مجھے (عوف بن مالک کو) عمار سے پہلے بلایا جاتا تھا، مجھے بلایا اور دو حصے عنایت فرمائے، کیونکہ میرے ہاں بیوی تھی، پھر میرے بعد سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں ایک حصہ عنایت فرمایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/25، 29) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4057)
مشكوة المصابيح (4057)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2953
| إذا أتاه الفيء قسمه في يومه فأعطى الآهل حظين وأعطى العزب حظا فدعينا وكنت أدعى قبل عمار فدعيت فأعطاني حظين وكان لي أهل ثم دعي بعدي عمار بن ياسر فأعطى له حظا واحدا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2953 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2953
فوائد ومسائل:
بیت المال میں سے اسلام کے لئے خدمات کے ساتھ ساتھ ذاتی احوال کے حوالے سے بھی ایک مسلمان کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔
جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتیں اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا۔
جبکہ دیگر نظام ہائے معیشت میں بالعموم اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
نیز حقوق کی ادایئگی میں تاخیر کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
بیت المال میں سے اسلام کے لئے خدمات کے ساتھ ساتھ ذاتی احوال کے حوالے سے بھی ایک مسلمان کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔
جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتیں اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا۔
جبکہ دیگر نظام ہائے معیشت میں بالعموم اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
نیز حقوق کی ادایئگی میں تاخیر کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2953]
Sunan Abi Dawud Hadith 2953 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← عوف بن مالك الأشجعي