🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب ما يستحب من تطهير ثياب الميت عند الموت
باب: مستحب ہے کہ قریب الموت آدمی کے کپڑے پاک صاف کر دیے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3114
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ، فَلَبِسَهَا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مردہ اپنے انہیں کپڑوں میں (قیامت میں) اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4428) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی مرتے وقت اس کے بدن پر جو کپڑے ہوتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا کہ  «ثیاب» سے اعمال مراد ہیں نہ کہ کپڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1640)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة مكثر
👤←👥يحيى بن أيوب الغافقي، أبو العباس
Newيحيى بن أيوب الغافقي ← يزيد بن الهاد الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← يحيى بن أيوب الغافقي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3114
الميت يبعث في ثيابه التي يموت فيها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3114 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3114
فوائد ومسائل:
مومن کا امتیازی وصف ہے۔
کہ وہمیشہ پاک صاف رہتا ہے۔
اور اللہ عزوجل بھی (متطهرين) سے محبت رکھتا ہے۔
تو چاہیے کہ آخرت کے سفر میں جس میں کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہونے والی ہے۔
مسلمان کا جسم اور لباس خوب عمدہ اور پاک صاف ہو خیال رہے کہ لوگ محشر میں ابتداءً بے لباس اٹھائے جایئں گے۔
اور پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ اور بعد ازان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لباس دیا جائے گا۔
اور ان کے بعد دیگر مومنین کو تو جس نے جس قسم کا لباس اختیار کیا ہوگا۔
اسے اسی قسم کا لباس دے دیا جائے گا۔
مگر لباس التقویٰ ہی سب سے بڑھ کر ہے۔
اس کے بغیر ظاہری لباس لغو بے معنی ہیں۔
اور عربی محاورہ میں (طاهر الثوب) پاک صاف کپڑوں والا ایسےآدمی کو کہا جاتا ہے جو اپنے اخلاق وکردار میں صاف ستھرا ہو اور اس کے برعکس کو (دنس الثوب) میلے کچیلے کپڑوں والا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
یعنی اس کا اخلاق وکردار گندا اور میلا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3114]

Sunan Abi Dawud Hadith 3114 in Urdu