یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب فى الشركة
باب: تجارت میں شراکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ، يَقُولُ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3383]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً بیان کیا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں (ساجھے داروں) کا تیسرا ہوں جب تک ان میں کوئی ایک دوسرے کی خیانت نہ کرے۔ جب کوئی خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12939) (ضعیف)» (ابو حیان تیمی مجہول ہیں، ابن الزبرقان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے، دار قطنی (303) میں اور جریر نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر،و الارواء 1468)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2933)
مشكوة المصابيح (2933)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3383
| أنا ثالث الشريكين ما لم يخن أحدهما صاحبه فإذا خانه خرجت من بينهما |
بلوغ المرام |
742
| أنا ثالث الشريكين ما لم يخن أحدهما صاحبه فإذا خان خرجت من بينهما |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3383 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3383
فوائد ومسائل:
اس کے علاوہ دیگر روایات سے بھی شراکت داری اور اس میں امانت اور دیانت کی تاکید واہمیت ثابت ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا درمیان سے نکل جانا بطور استعارہ کے ہے۔
یعنی برکت اٹھ جاتی ہے۔
اور رزین کی روایت کے مطابق شیطان ان کے درمیان داخل ہو جاتا ہے۔
(عون المعبود)
اس کے علاوہ دیگر روایات سے بھی شراکت داری اور اس میں امانت اور دیانت کی تاکید واہمیت ثابت ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا درمیان سے نکل جانا بطور استعارہ کے ہے۔
یعنی برکت اٹھ جاتی ہے۔
اور رزین کی روایت کے مطابق شیطان ان کے درمیان داخل ہو جاتا ہے۔
(عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3383]
Sunan Abi Dawud Hadith 3383 in Urdu
سعيد بن حيان التيمي ← أبو هريرة الدوسي