سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب في العبد يباع وله مال
باب: بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟
حدیث نمبر: 3435
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ، لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے (کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3433) فھو شاھد له
انظر الحديث السابق (3433) فھو شاھد له
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥اسم مبهم اسم مبهم ← جابر بن عبد الله الأنصاري | 0 | |
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى سلمة بن كهيل الحضرمي ← اسم مبهم | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سلمة بن كهيل الحضرمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3435
| من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3435 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3435
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یعنی بیچتے ہوئے اصل بکنے والی چیز کے ساتھ کچھ اور وابستہ ہے۔
تو وہ از خود خریدار کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔
ایسے زوائد پہلے مالک کے ہیں۔
ہاں اگر بیع کے دوران میں یہ طے ہوجائے کہ اصل چیز مع زوائد بیچی جارہی ہے تو پھر یہ خریدار کی ہوگی۔
فائدہ۔
یعنی بیچتے ہوئے اصل بکنے والی چیز کے ساتھ کچھ اور وابستہ ہے۔
تو وہ از خود خریدار کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔
ایسے زوائد پہلے مالک کے ہیں۔
ہاں اگر بیع کے دوران میں یہ طے ہوجائے کہ اصل چیز مع زوائد بیچی جارہی ہے تو پھر یہ خریدار کی ہوگی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3435]
اسم مبهم ← جابر بن عبد الله الأنصاري