🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في كراهية ذم الطعام
باب: کھانے کی برائی بیان کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ بات ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 23 (3563)، صحیح مسلم/الأشربة 35 (2064)، سنن الترمذی/البر والصلة 84 (2031)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 4 (3259)، (تحفة الأشراف: 13403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/474، 479، 481) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5409) صحيح مسلم (2064)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← سلمان مولى عزة
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5409
ما عاب النبي طعاما قط إن اشتهاه أكله وإن كرهه تركه
صحيح البخاري
3563
ما عاب النبي طعاما قط إن اشتهاه أكله وإلا تركه
صحيح مسلم
5383
إذا اشتهاه أكله وإن لم يشتهه سكت
صحيح مسلم
5380
ما عاب رسول الله طعاما قط كان إذا اشتهى شيئا أكله وإن كرهه تركه
جامع الترمذي
2031
ما عاب رسول الله طعاما قط كان إذا اشتهاه أكله وإلا تركه
سنن أبي داود
3763
ما عاب رسول الله طعاما قط إن اشتهاه أكله وإن كرهه تركه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3763 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3763
فوائد ومسائل:

انسان اللہ کی نعمت کھانے سے رہ بھی نہ سکے۔
اور پھر اس کی عیب جوئی بھی کرے۔
یہ بہت بُری خصلت ہے۔
اگر کھانا تیار کرنے والے کی تقصیر ہوتو اس کو مناسب انداز سے سمجھا دینا چاہیے۔


اس حدیث سے یہ استدلال بھی کیا جا سکتا ہے۔
کہ انسان نے کسی شخص یا کسی ادارے سے کوئی معاہدہ طے کیا ہو۔
اور طے شدہ امور وشرائط پر معاملہ چل رہا ہو تو مناسب نہیں کہ اس ادارے یا افراد پر بلاوجہ معقول طعن وتشنیع کرے۔
یا تو بخیر وخوبی ساتھ نبھائے یا بھلے انداز سے جدا ہو جائے۔
تاہم نصیحت اور خیر خواہی کا اسلامی شرعی اور اخلاق حق اچھے طریقے سے ادا کیا جانا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3763]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3563
3563. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو عیب دار نہیں کہا۔ اگر آپ کا دل چاہتا تو تناول فرمالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3563]
حدیث حاشیہ:
اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے، برخلاف اس کے دنیا پرست شکم پرور لوگ کھانا کھانے بیٹھتے ہیں اورلقمہ لقمہ میں عیب جوئیاں شروع کردیتے ہیں، اللہ پاک ہر مسلمان کو اسوہ رسول پر عمل کی توفیق بخشے۔
(آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3563]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5409
5409. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے اگر ناپسند ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5409]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ کھانے کاعیب بیان کرنا جیسے یوں کہنا کہ اس میں نمک نہیں ہے یا پھیکا ہے یا نمک زیادہ ہے۔
یہ ساری باتیں مکروہ ہیں۔
پکانے اور ترکیب میں کسی نقص کی اصلاح کرنا مکروہ نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5409]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3563
3563. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو عیب دار نہیں کہا۔ اگر آپ کا دل چاہتا تو تناول فرمالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3563]
حدیث حاشیہ:
اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ کبھی کسی کھانے کو معیوب قرارنہیں دیتے،اس کے برعکس دنیا پرست اور شکم پرور(پیٹو)
لوگ جو کھانے بیٹھتے ہیں تو لقمے لقمے میں عیب نکالنا شروع کردیتے ہیں اور ہمارے ہاں تو یہ عام رواج ہے کہ کھانا کھاتے وقت مرچ نمک کی کمی کا شکوہ شروع ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہمیں اس روش کا جائزہ لینا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3563]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5409
5409. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے اگر ناپسند ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5409]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس سے مراد حلال کھانا ہے کیونکہ حرام کھانے کی مذمت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
وہ تو سراپا عیب ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مذمت کرتے اور اسے کھانے سے منع فرماتے تھے۔
(2)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ خلقت کے اعتبار سے اسے معیوب قرار دینا منع ہے، البتہ تیار شدہ کھانے پر عیب لگایا جا سکتا ہے لیکن الفاظ میں عموم ہے، کسی صورت میں اسے معیوب کہنا صحیح نہیں، خواہ بنانے اور تیار کرنے کے اعتبار سے کیوں نہ ہو۔
اس طرح کھانا تیار کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کھانے کے آداب میں سے ہے کہ اس میں عیب نہ نکالے جائیں کہ اس میں نمک نہیں ہے یا پھیکا ہے یا نمک زیادہ ہے یا اس کا شوربا اچھی طرح پکا ہوا نہیں ہے۔
یہ تمام باتیں مکروہ ہیں، البتہ پکانے اور ترکیب میں کسی نقص کی اصلاح کرنا مکروہ نہیں ہے۔
(فتح الباري: 678/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5409]