🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب في لبس الحرير لعذر
باب: عذر کی وجہ سے ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4056
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَلِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 91 (2919)، واللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن النسائی/الزینة من المجتمع 38 (5312)، سنن ابن ماجہ/اللباس 17 (3592)، (تحفة الأشراف: 1169)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 2 (1722)، مسند احمد (3/127، 180، 215، 255، 273) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2919) صحيح مسلم (2076)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة مأمون
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5839
رخص النبي للزبير و عبد الرحمن في لبس الحرير لحكة بهما
صحيح البخاري
2919
رخص لعبد الرحمن بن عوف والزبير في قميص من حرير من حكة كانت بهما
صحيح البخاري
2921
رخص النبي لعبد الرحمن بن عوف و الزبير بن العوام في حرير
صحيح البخاري
2920
أرخص لهما في الحرير فرأيته عليهما في غزاة
صحيح مسلم
5433
رخص لهما في قمص الحرير في غزاة لهما
صحيح مسلم
5431
لبس الحرير لحكة كانت بهما
صحيح مسلم
5429
رخص لعبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام في القمص الحرير في السفر من حكة كانت بهما أو وجع كان بهما
جامع الترمذي
1722
شكيا القمل إلى النبي في غزاة لهما فرخص لهما في قمص الحرير قال ورأيته عليهما
سنن أبي داود
4056
قمص الحرير في السفر من حكة كانت بهما
سنن النسائى الصغرى
5313
رخص لعبد الرحمن والزبير في قمص حرير كانت بهما يعني لحكة
سنن النسائى الصغرى
5312
أرخص لعبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام في قمص حرير من حكة كانت بهما
سنن ابن ماجه
3592
رخص للزبير بن العوام ولعبد الرحمن بن عوف في قميصين من حرير من وجع كان بهما حكة
بلوغ المرام
418
رخص لعبد الرحمن بن عوف والزبير في قميص الحرير في سفر من حكة كانت بهما
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4056 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4056
فوائد ومسائل:
اس قسم کی صورت میں علاج کی غرض سے مردوں کے لئے بھی ریشم پہننا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4056]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 418
لباس کا بیان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ریشمی قمیص پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس وجہ سے کہ ان کو خارش تھی۔ (بخاری ومسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 418»
تخریج:
«أخرجه البخاري، اللباس، باب ما يرخص للرجال من الحرير للحكة، حديث:5839، ومسلم، اللباس، باب إباحة لبس الحرير للرجال، حديث:2076.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت زبیر رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ یہ زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد قرشی اسدی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری‘ یعنی قریبی ساتھی تھے۔
آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر اور عشرۂ مبشرہ میں سے تھے۔
غزوات میں اسلام کے جری اور بہادرافراد میں شمار ہوتے تھے۔
جنگ جمل سے واپسی کے بعد ۳۶ ہجری کو شہید کر دیے گئے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 418]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5312
ریشم پہننے کی اجازت کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہو گئی تھی ریشم کی قمیص (پہننے) کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5312]
اردو حاشہ:
(1) مردوں کےلیے بھی بعض حالتوں میں ریشم کا استعمال جائز ہے مثلا: اگر کسی کو خارش ہو تو بطور علاج ریشم کا لباس پہن سکتا ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ شریعت مطہرہ انتہائی آسان ہے نیز اس کے ساتھ ساتھ اس میں ضرورت مند اور مکلف لوگوں کی سہولت کا بھی پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔
(3) یہ دوران سفر کا واقعہ ہے اس لیے بعض فقہاء نے خارش کے ساتھ ساتھ سفر کی شرط بھی لگائی ہے کیونکہ گھر میں تو خارش کا اور علاج بھی ممکن ہے۔ لیکن راجح بات یہی ہے کہ بطور علاج بہ حالت اقامت بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5312]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5313
ریشم پہننے کی اجازت کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن اور زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہو گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5313]
اردو حاشہ:
ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت ہے اگر ضرورت محسوس ہو تو ریشم کی شلوار وغیرہ بھی پہن سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5313]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3592
جن لوگوں کو ریشم پہننے کی اجازت دی گئی ان کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3592]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ان حضرات کو جوؤں کی تکلیف بھی تھی۔ (صحيح البخاري، الجهاد والسير، باب الحرير، حديث: 2920)
ممکن ہے خارش اسی وجہ سے ہو۔

(2)
جن جلدی بیماریوں میں دوسرا لباس تکلیف کا باعث ہو اور ریشمی لباس فائدہ مند ہو تو اس صورت میں مردوں کو یہ لباس پہننا جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3592]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5429
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی، کیونکہ ان دونوں کو خارش یا کوئی اور تکلیف تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5429]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
حكة:
خارش۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5429]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5433
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جوؤں کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک جنگ میں، ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5433]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جوؤں کی بنا پر خارش پیدا ہو گئی تھی،
جنگ کا موقعہ تھا،
اس لیے آپ نے ریشمی قمیص کی رخصت دے دی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5433]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2919
2919. حضرت انس ؓسے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ اور حضرت زبیر ؓ کو خارش کی وجہ سے ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2919]
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث لا کر حضرت امام بخاری ؒنے اس کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا جو آگے بیان کیا کہ یہ اجازت جہاد میں ہوئی اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ یہ اجازت سفر میں دی۔
اب دوسری روایت میں اجازت کی علت جوئیں مذکور ہیں اس روایت میں کھجلی۔
دونوں میں تطبیق یوں ہوگی کہ پہلے جوئیں پڑی ہوں گی پھر جوؤں کی وجہ سے کھجلی پیدا ہوگئی ہوگی۔
کہتے ہیں ریشمی کپڑا خارش کو کھودیتا ہے اور جوؤں کو مار ڈالتا ہے (وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2919]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5839
5839. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5839]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ ایسی شدید تکلیف کے علاج کے لیے ریشم پہننے کی اجازت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5839]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5839
5839. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5839]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ جوؤں کی وجہ سے انہیں خارش ہو گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2920)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے:
(باب الحرير في الحرب)
دوران جنگ میں ریشم استعمال کرنا۔
(2)
جنگ کے دوران میں ریشم کا لباس اس لیے استعمال کیا جاتا تاکہ تلوار کا وار، کاری ضرب ثابت نہ ہو، بہرحال خارش یا جوؤں کی وجہ سے اور دوران جنگ میں ریشم کا لباس پہننے کی اجازت ہے، اسی طرح ہر وہ بیماری جس میں ریشم پہننے سے افاقہ ہو جاتا ہو یا گرمی سردی سے بچنے کے لیے اسے استعمال کرنا جائز ہے بشرطیکہ کوئی دوسرا کپڑا نہ مل سکے۔
(فتح الباري: 364/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5839]