پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب الحد في الخمر
باب: شراب کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4476
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا"، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، وَقَالَ: أَفَعَلَهَا وَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَيْءٍ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: حَدِيثُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ هَذَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس رضی اللہ عنہ کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا: ”کیا اس نے ایسا کیا ہے؟“ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4476]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی حد متعین نہیں کی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی لی، اس سے اسے نشہ ہو گیا اور وہ گلی میں لہرا لہرا کر چلنے لگا۔ پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لے چلے۔ جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے آیا تو وہ گھوم کر ان کے گھر میں چلا گیا اور ان سے جا چمٹا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور پوچھا: ”کیا واقعی اس نے اس طرح کیا ہے؟“ اور پھر اس کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ متفرد ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6212)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/322) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3622)
ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (5290)
مشكوة المصابيح (3622)
ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (5290)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4476
| لم يقت في الخمر حدا |
Sunan Abi Dawud Hadith 4476 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي