پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب القود من الضربة وقص الأمير من نفسه
باب: مار پیٹ کا قصاص اور امیر کو اپنے سے قصاص دلوانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4537
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ أُقِصُّهُ مِنْهُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتُقِصُّهُ مِنْهُ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أُقِصُّهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ".
ابوفراس کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: ”میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے: ”ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے قصاص لوں گا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4537]
جناب ابوفراس (ربیع بن زیاد بن انس حارثی) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: ”میں اپنے عمال اس لیے نہیں بھیجتا کہ تمہارے جسموں پر ماریں یا تمہارے مال تم سے چھین لیں۔ اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنا مقدمہ میرے پاس لائے تاکہ میں اس سے قصاص لوں۔“ تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر کسی نے اپنی رعایا میں سے کسی کی تادیب کی ہو (اسے سزا دی ہو) تو کیا آپ اس کا بدلہ لیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے بدلہ لوں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی ذات سے بدلہ دلواتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 19 (4781)، (تحفة الأشراف: 10664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/41) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4781) مختصرًا وسنده حسن، أبو فراس النھدي: وثقه ابن حبان و ابن خزيمة وابن الجارود والحاكم وغيرهم فھو صدوق حسن الحديث
أخرجه النسائي (4781) مختصرًا وسنده حسن، أبو فراس النھدي: وثقه ابن حبان و ابن خزيمة وابن الجارود والحاكم وغيرهم فھو صدوق حسن الحديث
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4537
| رأيت رسول الله أقص من نفسه |
سنن النسائى الصغرى |
4781
| رأيت رسول الله يقص من نفسه |
Sunan Abi Dawud Hadith 4537 in Urdu
الربيع بن زياد المحاربي ← عمر بن الخطاب العدوي