سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
11. فدية ما أصاب المحرم
باب: محرم کے فدیے کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2519 ترقیم الرسالہ : -- 2552
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ ، نا أَبِي ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلا كَانَ مُحْرِمًا عَلَى رَاحِلَتِهِ فَأَتَى عَلَى أُدْحِيِّ نَعَامَةٍ، فَأَصَابَ مِنْ بَيْضِهَا فَسَقَطَ فِي يَدَيْهِ، فَأَفْتَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ أَنْ يَشْتَرِيَ بَنَاتِ مَخَاضٍ فَيَضْرِبُهُنَّ، فَمَا أَنْتَجَ مِنْهُنَّ أَهْدَاهُ إِلَى الْبَيْتِ وَمَا لَمْ يُنْتِجْ مِنْهُنَّ أَجْزَأَ عَنْهُ، لأَنَّ الْبِيضَ مِنْهُ مَا يَصْلُحُ وَمِنْهُ مَا يَفْسُدُ، قَالَ: فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا أَفْتَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قَالَ عَلِيُّ مَا قَالَ، فَهَلْ لَكَ فِي الرُّخْصَةِ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّ فِي كُلِّ بَيْضَةِ نَعَامٍ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ أَوْ صَوْمُ يَوْمٍ" .
معاویہ بن قرہ ایک انصاری بزرگ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک شخص حالت احرام میں اپنی سواری پر جا رہا تھا، وہ شترمرغ کے گھونسلے کے پاس پہنچا، اس نے وہاں سے انڈا لیا، جو اس کے ہاتھ سے گر گیا، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ بنات مخاض خریدے گا، انہیں جفتی کے لیے دے گا، پھر وہ جو بچوں کو جنم دیں گی، وہ شخص ان بچوں کو بیت اللہ کے لیے ہدیہ کر دے گا، اور اگر ان اونٹنیوں نے کسی بچے کو جنم نہ دیا، تو بھی اس شخص کا کفارہ ادا ہو جائے گا، کیونکہ بعض اوقات کسی انڈے سے بچہ نکل آتا ہے اور بعض اوقات کسی انڈے سے بچہ نہیں نکلتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اسے فتویٰ دیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”علی نے تو جو کہنا تھا، سو کہہ دیا، کیا تم کچھ رخصت حاصل کرنا چاہتے ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک انڈے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلانا یا ایک دن کا روزہ رکھنا (کفارہ) ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2552]
ترقیم العلمیہ: 2519
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10134، 10135، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2552، 2553، 2554، 2555، 2556، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20913، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8292، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15450، وأبو داود فى "المراسيل"، 139»
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← علي بن أبي طالب الهاشمي