صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الراكب حدود الله والمداهن فيها مع القائم بالحق بأصحاب مركب ركبوا لج البحر-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو جو اللہ کی حدود پر قائم رہتے ہیں اور ان سے چشم پوشی کرتے ہیں، ان سواروں سے تشبیہ دینے کا ذکر جو ایک کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں نکلے۔
حدیث نمبر: 298
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُدَاهِنُ فِي حُدُودِ اللَّهِ، وَالرَّاكِبُ حُدُودَ اللَّهِ، وَالآمِرُ بِهَا، وَالنَّاهِيَ عَنْهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهُمْوا فِي سَفِينَةٍ مِنْ سُفُنِ الْبَحْرِ، فَأَصَابَ أَحَدُهُمْ مُؤَخَّرَ السَّفِينَةِ وَأَبَعْدَهَا مِنَ الْمِرْفَقِ، وَكَانُوا سُفَهَاءَ، وَكَانُوا أَتَوْا عَلَى رِجَالِ الْقَوْمِ، آذَوْهُمْ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَقْرَبُ أَهْلِ السَّفِينَةِ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَتَعَالَوْا نَخْرِقْ دَفَ السَّفِينَةِ ثُمَّ نَرُدَّهُ اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ، فَقَالَ مَنْ نَاوَأَهُ مِنَ السُّفَهَاءِ: افْعَلْ، فَأَهْوَى إِلَى فَأْسٍ لِيَضْرِبَ بِهَا أَرْضَ السَّفِينَةِ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِ رَجُلٌ رُشَيْدٌ فَقَالَ: مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: نَحْنُ أَقْرَبُكُمْ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَكُمْ مِنْهُ، أَخْرِقُ دَفَ السَّفِينَةِ، فَاسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَّدَنَاهُ، فَقَالَ: لا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ تَهْلِكُ وَنَهْلِكُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والا اوراللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والا، اس کا حکم دینے والا اور اس سے منع کرنے والا۔ اس کی مثال ایسے لوگوں کی طرح ہے، جو سمندر کی کسی کشتی میں اپنی جگہ کے بارے میں قرعہ اندازی کر لیتے ہیں، تو ان میں سے ایک شخص کو کشتی کا پچھلا حصہ ملتا ہے۔ وہ شخص اپنے ساتھیوں سے دور ہوتا ہے، اور وہ لوگ بے وقوف ہوتے ہیں، جب بھی لوگ وہاں آتے ہیں، تو اسے اذیت دیتے ہیں، تو وہ لوگ یہ کہتے ہیں، ہم تمام کشتی والوں میں سہولت کے زیادہ قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں، تو تم لوگ آؤ ہم کشتی کے زیریں حصے کو توڑ دیتے ہیں، جب ہم اس سے بے نیاز ہو جائیں گے، تو ہم اسے واپس لگا دیں گے، تو ان میں سے جو بے وقوف شخص ہوتا ہے، وہ کہتا ہے تم ایسا کر لو پھر وہ کلہاڑی کی طرف بڑھتا ہے، تاکہ اسے کشتی کے فرش پر مارے، تو ایک سمجھ دار شخص جھانک کر اس کی طرف دیکھتا ہے، اور دریافت کرتا ہے: تم کیا کر رہے ہو؟ وہ کہتا ہے ہم سہولت میں تمہارے زیادہ قریب ہیں اور اس سے تم سے زیادہ دور ہیں۔ میں کشتی کا تختہ توڑنے لگا ہوں۔ جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی تو ہم اسے بند کر دیں گے، تو وہ سمجھدار شخص یہ کہتا ہے: تم ایسا نہ کرو، اگر تم ایسا کرو گے، تو تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے اور ہم بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 298]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (69): خ نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← النعمان بن بشير الأنصاري