صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
293. فصل في الشهيد - ذكر إثبات الشهادة للمجاهد في سبيل الله إذا قتله سلاحه
شہید کے بیان میں فصل - اس بات کا ذکر کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو اگر اس کا ہتھیار قتل کرے تو اس کے لیے شہادت ثابت ہے
حدیث نمبر: 3196
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ: رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاحِهِ وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ بِكَ، فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَعْلَمُ مَا تَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْلا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلا تَصَدَّقْنَا وَلا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ هَذَا؟" قُلْتُ: أَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُهُ اللَّهُ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نَاسًا أَبَوْا الصَّلاةَ عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاحِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَجُلٌ مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا" .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر میرے بھائی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (جنگ میں حصہ لیتے ہوئے) شدید لڑائی کی ان کی تلوار پلٹ کر انہیں لگی اور وہ شہید ہو گئے ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے یہ کہا: کیونکہ یہ شخص اپنے ہتھیار کے ذریعے مرا ہے اس لیے ان کے معاملے کے بارے میں لوگوں کو شک ہو گیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رجز پڑھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دھیان رکھنا تم کیا پڑھ رہے ہو (تو میں نے پڑھنا شروع کیا) ”اللہ کی قسم! اگر اللہ کی ذات نہ ہوتی، تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے ہم صدقہ و خیرات نہ کرتے اور ہم نماز نہ پڑھتے (اے اللہ)، تو ہم پر سکینت نازل کر اور اگر ہم (دشمن کا سامنا کریں)، تو، تو ہمیں ثابت قدم رکھنا مشرکوں نے ہمارے خلاف محاذ آرائی کی ہے۔“ جب میں نے اپنا رجز مکمل کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ اشعار کس نے کہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: میرے بھائی نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ لوگوں نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی وہ یہ کہتے ہیں: اس شخص کا انتقال اپنے اسلحے کے ذریعے ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ ایک ایسا شخص ہے، جو جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہونے کے عالم میں فوت ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3186»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2289): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الله بن كعب الأنصاري ← سلمة بن الأكوع الأسلمي