صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
258. فصل من البر والإحسان - ذكر الأمر للمرء بالتشفع إلى من بيده الحل والعقد في قضاء حوائج الناس
فصل نیکی اور احسان - بیان کہ انسان کو چاہیے کہ لوگوں کے امور حل کرنے والے کے پاس سفارش کرے
حدیث نمبر: 531
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُوتَى فَأُسْأَلُ، وَيُطْلَبُ إِلَيَّ الْحَاجَةُ، وَأَنْتُمْ عِنْدِي، فَاشْفَعُوا، فَلْتُؤْجَرُوا، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ أَوْ مَا شَاءَ" ، قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ أَرَادَ بِهِ ابْنَ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: وَهُوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک مجھے (مال و دولت) عطا کیا گیا ہے، اس لیے مجھ سے مانگا جاتا ہے اور مجھ سے حاجت طلب کی جاتی ہے اور تم لوگ میرے پاس ہوتے ہو، تم لوگ سفارش کیا کرو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چیز پسند کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ سنا دیتا ہے۔“ شیخ کہتے ہیں: ابن ابوبردہ نامی راوی جو اس روایت میں مذکور ہیں، اس سے مراد ابن ابوبردہ کے صاحبزادے ہیں۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں: یہ برید بن عبداللہ بن ابوبردہ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1432، 6027، 6028، 7476، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2627، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 531، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2555، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5131، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2672، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19893، والحميدي فى (مسنده) برقم: 789» «رقم طبعة با وزير 532»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1464): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أحمد بن عبدة الضبي فمن رجال مسلم، وقد صرح المقدمي بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 531 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري