🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. التغليظ فى منع الزكاة
زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1454
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبةَ أحمدُ بن الفَرَج، حدثنا عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار، حدثنا محمد بن مُهاجِر، عن ثابت بن عَجْلان، حدثنا عطاء، عن أُم سَلَمة: أنها كانت تَلبَس أَوْضاحًا من ذهب، فسألَتْ عن ذلك النبيَّ ﷺ فقالت: أكَنزٌ هو؟ فقال:"إذا أدَّيتِ زكاتَه، فليسَ بكَنْز" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا عطا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سونے کی پازیبیں پہنا کرتی تھیں۔ انہوں نے ان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی زکوۃ ادا کر دے گی تو یہ کنز (کے حکم میں) نہیں رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1454]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1454 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، أبو عتبة أحمد بن الفرج الحمصي حديثه حسن في المتابعات والشواهد وقد توبع، ومن فوقه ثقات إلّا أنَّ عطاء - وهو ابن أبي رباح - لم يسمع من أم سلمة فيما قاله علي بن المديني، ومع ذلك فقد صحَّحه ابن القطان في "بيان الوهم والإيهام" (2535)، وجوَّد إسناده الحافظ العراقي في "شرح الترمذي" فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 5/ 27. محمد بن مهاجر: هو الأنصاري الشامي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) "حسن لغیرہ" ہے؛ احمد بن الفرج حسن الحدیث ہیں اور ان کی متابعت موجود ہے، اگرچہ عطا کا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں، تاہم ابن قطان اور حافظ عراقی نے اس سند کو جید اور صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (1564) من طريق عتاب بن بشير، عن ثابت بن عجلان، بهذا الإسناد. بلفظ: "ما بلغ أن تؤدَّى زكاتُه فزُكِّي، فليس بكنز".
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1564) نے عتاب بن بشیر کی سند سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: "جس مال کی مقدار زکوٰۃ کی حد تک پہنچ جائے اور اس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے، وہ (ممنوعہ) خزانہ (کنز) نہیں ہے"۔
ويشهد له حديث ابن عمر عند البخاري (1404)، وابن ماجه (1787). وحديثا جابر بن عبد الله وأبي هريرة الآتيان بعده.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت ابن عمر کی بخاری (1404) والی حدیث اور حضرت جابر و ابوہریرہ کی روایات سے ہوتی ہے جو آگے آئیں گی۔