🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. من تصدق من مال حرام لم يكن له فيه أجر وكان إصره عليه
جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا بلکہ اس کا وبال اسی پر رہتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1456
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا ابن وَهْب، عن عمرو بن الحارث، عن دَرَّاجٍ أبي السَّمْح، عن ابن حُجَيرةَ الأكبرِ الخَوْلاني، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أدَّيتَ الزكاةَ فقد قَضَيتَ ما عليكَ، ومَن جَمَعَ مالًا حرامًا ثم تصدَّق به، لم يكن له فيه أجرٌ، وكان إصْرُه عليه" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے زکوٰۃ ادا کر دی تو تم نے وہ حق ادا کر دیا جو تم پر فرض تھا، اور جس شخص نے حرام طریقے سے مال جمع کیا اور پھر اسے صدقہ کر دیا، تو اسے اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس کا گناہ اسی کے سر رہے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد من أجل درّاج أبي السمح ففيه ضعف ويعتبر به في المتابعات والشواهد. ابن وهب: هو عبد الله، وابن حجيرة الأكبر: هو عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 1456] [ترقيم الشركة 1444]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1456 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل درّاج أبي السمح ففيه ضعف ويعتبر به في المتابعات والشواهد. ابن وهب: هو عبد الله، وابن حجيرة الأكبر: هو عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) درّاج ابوالسمح کے ضعف کی وجہ سے متابعات میں یہ سند حسن ہے۔ ابن وہب سے مراد عبداللہ اور ابن حجیرہ الاکبر سے مراد عبدالرحمن ہیں۔
وأخرجه الترمذي (618)، وابن حبان (3216) و (3367) من طريقين عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. واقتصر الترمذي على الشطر الأول، واقتصر ابن حبان في الموضع الثاني على الشطر الثاني. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (618) اور ابن حبان (3216) نے ابن وہب کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
وأخرج الشطر الأول ابن ماجه (1788) من طريق موسى بن أعين، عن عمرو بن الحارث، به. وذكرنا شواهده هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا پہلا حصہ ابن ماجہ (1788) میں مروی ہے جس کے شواہد وہاں موجود ہیں۔
وفي معنى الشطر الثاني عن ابن عباس مرفوعًا: "لا يُغبَطَنَّ جامعُ المالِ من غير حِلِّه، فإنه إن تَصدَّق لم يُقبَل منه، وما بقي كان زادَه إلى النار"، وسيأتي برقم (2166)، وإسناده ضعيف جدًّا.
🧩 متابعات و شواہد: اس کے دوسرے حصے (ناجائز مال کا صدقہ قبول نہیں ہوتا) کا شاہد حضرت ابن عباس کی روایت ہے جو نمبر (2166) پر آئے گی مگر وہ انتہائی ضعیف ہے۔
ونحوه عن ابن مسعود عند أحمد 6/ (3672)، وإسناده ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: حضرت ابن مسعود کی مسند احمد (3672/6) والی روایت بھی ضعیف ہے۔
وعن أبي الطفيل عند الطبراني كما في "مجمع الزوائد" 10/ 292 - 293، قال الهيثمي: وفيه محمد بن أبان الجعفي وهو ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوطفیل کی طبرانی والی روایت میں محمد بن ابان ضعیف راوی ہے۔
ومن مرسل القاسم بن مُخيمِرة: "ومن اكتسب مالًا من مأثم، فوصل به رحمًا أو تصدق به أو أنفقه في سبيل الله، جمع ذلك جمعًا، فقُذف به في جهنم". أخرجه أبو إسحاق الفزاري في "السير" (498)، وأبو داود في "المراسيل" (131)، وهو مرسل محتمِل للتحسين.
⚖️ درجۂ حدیث: قاسم بن مخیمرہ کی مرسل روایت ابوداؤد (المراسیل) میں ہے کہ گناہ سے کمایا ہوا مال اگر صلہ رحمی یا صدقہ میں خرچ کیا جائے تو وہ سب جہنم کا ایندھن بنے گا، یہ روایت تحسین کے قابل ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1456 in Urdu