🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. من تصدق من مال حرام لم يكن له فيه أجر وكان إصره عليه
جو شخص حرام مال سے صدقہ کرے اس کے لیے اس میں کوئی اجر نہیں ہوتا بلکہ اس کا وبال اسی پر رہتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1461
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق وحَبِيب بن [أبي] (2) حَبِيب، عن عمرو بن هَرِم (3) ، أنَّ أبا الرِّجال محمد بن عبد الرحمن الأنصاري حدَّثه: أنَّ عمر بن عبد العزيز حين استُخلِف أَرسَل إلى المدينة يلتمس عهدَ النبي ﷺ في الصدقات، فوَجَدَ عند آل عمرو بن حزم كتابَ النبيِّ ﷺ إلى عمرو بن حَزْم في الصَّدقات، ووَجَدَ عند آل عمر بن الخطاب كتابَ عمرَ إلى عُمّاله في الصَّدقات، بمثلِ كتاب النبيِّ ﷺ إلى عمرو بن حَزْم، فأَمَرَ عمرُ بن عبد العزيز عمَّالَه على الصَّدقات أن يأخذوا بما في ذَينِكَ الكتابين، فكان فيهما: صدقةُ الإبل ما زادت على التسعين واحدةً ففيها حِقَّتان إلى عشرين ومئة، فإذا زادت على العشرين ومئة واحدةً ففيها ثلاثُ بنات لبونٍ حتى تبلغ تسعًا وعشرين ومئة، فإذا كانت الإبلُ أكثرَ من ذلك فليس في ما لا يبلُغُ العشرةَ منها شيءٌ حتى تبلُغَ العشرة (1) . وأما كتابُ النبيِّ ﷺ لعَمْرو بن حَزْم فإنَّ إسناده من شرط هذا الكتاب، ولذلك ذكرتُ السِّياقةَ بطولها.
سیدنا محمد بن عبدالرحمن انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے مدینہ شریف میں زکوۃ کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی دستاویز کی تلاش میں ایک شخص کو بھیجا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آل کے پاس ایک تحری مل گئی جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ملازمین کی طرف صدقات کے حوالے سے لکھی تھی۔ اور یہ تحریر بالکل اسی تحریر جیسی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم کی طرف لکھی تھی تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنے زکوۃ کے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ انہی دونوں کتابوں میں موجود احکام پر عمل کریں، اس کے اندر یہ تفصیل تھی کہ اونٹوں کی زکوۃ یوں ہو گی: جب ان کی تعداد 90 سے زیادہ ہو تو اس میں تین سالہ دو اونٹنیاں ہیں 120 تک۔ جب تعداد 120 سے زیادہ ہو تو اس میں دو سالہ تین اونٹنیاں ہیں 129 تک۔ جب اس سے زیادہ ہو تو اس میں اس وقت تک زکوۃ نہیں ہے جب تک ان (زائد) کی تعداد دس تک نہ پہنچ جائے۔ ٭٭ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کو جو مکتوب لکھا اس کی اسناد ہماری اس کتاب کے معیار کی نہیں ہے، اس لیے میں نے گذشتہ حدیث تفصیلی ذکر کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1461]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1461 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) سقط من النسخ الخطية. وهو حبيب بن أبي حبيب الجرمي، وأبو حبيب اسمه: يزيد.
📝 توضیح: یہ حصہ قلمی نسخوں سے ساقط تھا۔ 👤 راوی پر جرح: یہ حبیب بن ابی حبیب الجرمی ہیں، اور ابو حبیب کا نام یزید ہے۔