المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. فضيلة التسبيح
تسبیح کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1908
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي سِنَان، عن عثمان بن أبي سَوْدة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مرَّ به وهو يَغرِسُ غَرْسًا، فقال:"ما تَصنعُ يا أبا هُريرة؟" قال: أغرِسُ غرسًا، فقال رسول الله ﷺ:"ألا أدلُّك على غَرْسٍ خيرٍ لك منه؟" قلت: ما هو؟ قال:"سبحانَ اللهِ، والحمدُ للهِ، ولا إلهَ إلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، يُغرَسُ لك بكلِّ واحدةٍ شجرةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن جابر:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن جابر:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ درخت لگا رہے تھے کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں درخت لگا رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اس سے بہتر شجرکاری کے بارے میں تمہیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سبحان اللّٰہ، والحمدللّٰہ، ولا الہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر۔ “ (ہر تسبیح کے بدلے تیرے لیے ایک درخت لگا دیا جائے گا۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1908]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1908 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف من أجل أبي سِنان - وهو عيسى بن سنان القَسْملي - فهو ليِّن الحديث كما قال الحافظُ ابن حجر، وقد حسَّن إسنادَه المنذريُّ في "الترغيب والترهيب".
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابوسنان (عیسیٰ بن سنان القسملي) کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ حافظ ابن حجر کے بقول وہ "لین الحدیث" (کمزور یادداشت والے) ہیں، اگرچہ منذر نے اسے حسن کہا ہے۔
أبو المثنّى: هو معاذ بن المثنّى العنبري ومحمد بن عبد الله الخُزاعي: هو ابن عثمان البصري.
🔍 فنی نکتہ: ابومثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ العنبری ہیں اور محمد بن عبداللہ الخزاعی سے مراد ابن عثمان البصری ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (3807) من طريق عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3807) نے عفان بن مسلم عن حماد بن سلمہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وقد روي مرفوعُه عن أبي هريرة من طريقين آخرين، أحدهما عند البزار (9311) من طريق ¤ ¤ حميد المكي مولى ابن علقمة، عن عطاء بن أبي رباح، عن أبي هريرة. وإسناده ضعيف لجهالة حميد هذا.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت دو اور طریقوں سے مروی ہے؛ پہلا بزار (9311) کے ہاں حمید المکی کے واسطے سے ہے، مگر حمید کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وثانيهما عند الطبراني في "الأوسط" (3171) من طريق سليمان بن أبي كريمة، عن ابن جُريج، عن أبي صالح، عن أبي هريرة. وإسناده ضعيف لضعف سليمان بن أبي كريمة، ولعنعنة ابن جريج، ولا رواية له عن أبي صالح - وهو السمّان - أصلًا، إنما يروي بواسطةٍ عنه.
🔍 علّت / فنی نکتہ: دوسرا طریق طبرانی (3171) کے ہاں ہے، مگر وہ سلیمان بن ابی کریمہ کے ضعف اور ابن جریج کی "عنعنہ" کی وجہ سے ضعیف ہے، نیز ابن جریج کا ابوصالح سے کوئی سماع نہیں ہے۔
ويشهد لغِراس الجنة حديثُ عبد الله بن مسعود عند الترمذي (3462)، وقال عنه: حسنٌ غريب.
🧩 متابعات و شواہد: جنت کے پودوں (غراس الجنہ) کے بارے میں حضرت ابن مسعود کی حدیث شاہد ہے جسے ترمذی (3462) نے "حسن غریب" کہا ہے۔
وحديثُ عبد الله بن عباس عند الطبراني في "الأوسط" (8475)، وفي "الدعاء" (1676). وقال المنذري في "الترغيب والترهيب": إسناده حسن لا بأس به في المتابعات.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابن عباس کی روایت (طبرانی) بھی شاہد ہے جسے منذری نے متابعات میں حسن قرار دیا ہے۔
ويشهد لذكر التسبيح وحده أنه يغرس به غرس في الجنة حديث جابر التالي.
📌 اہم نکتہ: صرف تسبیح پڑھنے سے جنت میں درخت لگنے کا شاہد حضرت جابر کی اگلی حدیث ہے۔