المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. فَضِيلَةُ التَّسْبِيحِ
تسبیح کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1907
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي سِنَان، عن أبي صالح، عن أبي سعيد وأبي هريرة، قالا: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله اصطَفَى من الكلامِ: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إله إلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، فإذا قال العبدُ: سبحانَ الله، كَتَبَ اللهُ له عشرين حسنةً، أو حَطَّ عنه عشرين سيئةً، وإذا قال: اللهُ أكبرُ، فمثلُ ذلك، وإذا قال: لا إلهَ إلَّا الله، فمثلُ ذلك، وإذا قال العبدُ: الحمدُ لله ربِّ العالمين، من قِبَل نفسِه، كُتبتْ له ثلاثون حسنةً، وحُطَّ عنه ثلاثون سيئةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ کلام منتخب فرمایا ہے: ” سبحان اللّٰہ، والحمدللّٰہ، ولا الہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر۔ “ بندہ جب سبحان اللہ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے 20 نیکیاں لکھتا ہے اور 20 گناہ مٹاتا ہے اور جب اللہ اکبر کہتا ہے تو بھی اسی طرح (اس کے لیے 20 نیکیاں لکھتا ہے اور 20 گناہ مٹاتا ہے) اور جب لا الٰہ الّا اللہ کہتا ہے تو بھی اسی طرح (20 نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور 20 گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں) اور جب بندہ الحمدللہ رب العالمین کہتا ہے اپنے دل سے، تو اس کے لیے 30 نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے تیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1907]
حدیث نمبر: 1908
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي سِنَان، عن عثمان بن أبي سَوْدة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مرَّ به وهو يَغرِسُ غَرْسًا، فقال:"ما تَصنعُ يا أبا هُريرة؟" قال: أغرِسُ غرسًا، فقال رسول الله ﷺ:"ألا أدلُّك على غَرْسٍ خيرٍ لك منه؟" قلت: ما هو؟ قال:"سبحانَ اللهِ، والحمدُ للهِ، ولا إلهَ إلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، يُغرَسُ لك بكلِّ واحدةٍ شجرةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن جابر:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن جابر:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ درخت لگا رہے تھے کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں درخت لگا رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اس سے بہتر شجرکاری کے بارے میں تمہیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سبحان اللّٰہ، والحمدللّٰہ، ولا الہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر۔ “ (ہر تسبیح کے بدلے تیرے لیے ایک درخت لگا دیا جائے گا۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1908]
حدیث نمبر: 1909
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن الحجّاج الصَّوّاف، عن أبي الزُّبير، عن جابر، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن قال: سبحانَ الله العَظيم، غُرِست له نخلةٌ في الجنة" (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ” سبحان اللّٰہ العظیم۔ “ کہا، اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1909]