المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. ليس منا من غشنا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 2188
حدثنا أبو العباس، حدثنا العباس بن محمد، حدثنا الأسود بن عامر، أخبرنا سفيان الثَّوْري، عن وائل بن داود، عن سعيد بن عمير، عن عمه، قال: سُئل رسول الله ﷺ: أيُّ الكسبِ أفضلُ؟ قال:"كَسْبٌ مَبْرُورٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ووائل بن داود وابنه بكر بن وائل ثقتان، وقد ذكر يحيى بن مَعِين أنَّ عمَّ سعيد بن عمير البراءُ بن عازب، وإذا اختلفَ الثَّوْري وشريكٌ، فالحُكم للثوريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2159 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ووائل بن داود وابنه بكر بن وائل ثقتان، وقد ذكر يحيى بن مَعِين أنَّ عمَّ سعيد بن عمير البراءُ بن عازب، وإذا اختلفَ الثَّوْري وشريكٌ، فالحُكم للثوريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2159 - صحيح
سیدنا سعید بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کونسا کسب سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کسب جو شبہ، جھوٹ اور خیانت سے پاک ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور وائل بن داؤد اور ان کا بیٹا بکر دونوں ثقہ ہیں اور یحیی بن معین نے یہ ذکر کیا ہے کہ سعید بن عمیر کا چچا ” براء بن عازب رضی اللہ عنہ “ ہے اور جب ثوری اور شریک کا اختلاف ہو تو فیصلہ ” ثوری “ کے حق میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2188]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2188 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الصحيح عن الثَّوري وغيره إرسالُه، فقد قال البخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 502: أسنده بعضهم وهو خطأ، ووافقه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 433 فصحَّح المرسَل، وكذا رجَّح المرسَل أبو حاتم كما في "العلل" لابنه (2837).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ حسن لغیرہ ہے۔ اگرچہ اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ مرسل ہے، جیسا کہ بخاری، بیہقی اور ابو حاتم نے صراحت کی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 263، وفي "شعب الإيمان" (1172) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے اسے امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 3/ 179 - 180، ومن طريقه البيهقي في "شعب الإيمان" (1171) عن أبي نعيم الفضل بن دكين وقبيصة بن عقبة، عن سفيان الثَّوري، عن وائل بن داود، عن سعيد بن عمير، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: یعقوب بن سفیان اور بیہقی نے اسے سفیان ثوری کے طریق سے مرسل روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 7/ 269، وابن أبي الدنيا في "إصلاح المال" (314) من طريق أبي معاوية، والبيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 433 من طريق محمد بن عبيد الطنافسي، كلاهما عن وائل بن داود، عن سعيد بن عمير، مرسلًا. وتحرَّف اسم عمير في نسخ ابن أبي شيبة الخطية إلى: المسيب، كما نبَّه عليه الشيخ محمد عوامة في طبعته، فالظاهر أنه خطأ قديم تواردت عليه النسخ. ¤ ¤ وأخرجه ابن أبي حاتم في "العلل" (2837) من طريق أبي إسماعيل المؤدِّب، عن وائل بن داود، عن سعيد بن عمير ابن أخي البراء، عن البراء، كذا رواه موصولًا بذكر البراء، وهو خطأ خالف فيه أبو إسماعيل المؤدّب أصحابَ وائل بن داود، كما تقدم، وأخطأ أيضًا في قوله: سعيد بن عمير ابن أخي البراء، لأنَّ المعروف أنه ابن ابن أخي أبي بردة بن نيار، فأبو بردة عم أبيه كما بيناه عند الحديث (2185)، وكما يدل عليه صنيع البخاري في "تاريخه" 3/ 502، وجاء في رواية محمد بن عبيد الطنافسي عن وائل بن داود التي قدّمنا ذكرها: عن سعيد بن عمير أبو أمه البراء، فلا تعارض حينئذٍ، يعني فيكون جدّه لأمه البراءَ وعمُّ أبيه أبا بُردة بن نِيار. وعليه فمن جزم بأنَّ البراء هو عم سعيد بن عمير كابن معين ويعقوب بن سفيان وغيرهما فغير مُصيبٍ، والظاهر أنَّ اعتمادهم في ذلك على رواية أبي إسماعيل المؤدّب المذكورة، وقد بيَّنا أنه لم يُقِم الإسناد، فلا تصلحُ للاعتماد عليها، والله تعالى أعلم.
📝 تصحیح و تحقیق: ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ ابو اسماعیل المؤدب نے اسے موصول (صحابہ کے ذکر کے ساتھ) بیان کر کے غلطی کی ہے، اور سعید بن عمیر کے رشتے کی وضاحت میں بھی راویوں سے وہم ہوا ہے۔ درست یہ ہے کہ سعید، ابو بردة بن نیار کے بھتیجے کے بیٹے ہیں۔