🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. ليس منا من غشنا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2189
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، أخبرنا المسعودي، عن وائل بن داود، عن عَبَاية بن رافع بن خَدِيج، عن أبيه، قال: قيل: يا رسول الله، أيُّ الكسبِ أطيبُ؟ قال:"كَسْبُ الرجلِ بيدِه، وكلُّ بَيعٍ مَبْرُورٍ" (1) . وهذا خلافٌ ثالث على وائل بن داود، إلّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن المسعودي، ومحلُّه الصِّدق (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2160 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ پاکیزہ کسب کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر وہ تجارت جو شبہ، جھوٹ اور خیانت سے پاک ہو۔ ٭٭ ابووائل پر یہ تیسرا اختلاف ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے مسعودی کی روایات نقل نہیں کی ہیں حالانکہ وہ صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2189]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2189 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة بن مسعود الهُذلي - كان قد اختلط، وقد خالف في روايته هذا الحديث جميع أصحاب وائل ابن داود كما تقدم في الطريقين السابقتين، إذ رووه عن وائل عن سعيد بن عمير، ولهذا خطّأ روايتَه هذه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 263، وقال الدارقطني في "الغرائب والأفراد" كما في "أطرافه" لابن طاهر المقدسي 3/ 64 (2060): تفرَّد به المسعوديُّ، أسنده عن رافع بن خديج.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حسن لغیرہ ہے۔ راوی "مسعودی" ثقہ ہیں مگر آخری عمر میں ان کا حافظہ کمزور (اختلاط) ہوگیا تھا، اور انہوں نے اس حدیث کو رافع بن خدیجؓ سے منسوب کر کے دیگر راویوں کی مخالفت کی ہے۔
وقال الحافظ في "التلخيص" 3/ 3: قول الحاكم في هذا الإسناد: عن أبيه، فيه تجوُّز، فإنه عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج. قلنا: وكذلك وقع في رواية بعض من خرَّجه غير الحاكم: عن أبيه، تجوُّزًا.
📝 سندی نکتہ: حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ سند میں "عن ابیہ" (اپنے باپ سے) کہنا وسعت کے طور پر ہے، مراد عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17265) عن يزيد بن هارون، عن المسعودي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے یزید بن ہارون عن المسعودی کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) هو وإن كان محلُّه الصدق لكنه اختلط كما قدَّمنا، وخالف غيره، فتأكد أنَّ روايته لهذا الحديث في الاختلاط.
👤 راوی کی حالت: مسعودی سچے تھے مگر اختلاط کی وجہ سے ان کی یہ روایت وہم پر مبنی ہے۔