🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. اشْتِرَاطُ الْبَائِعِ خِدْمَةَ الْعَبْدِ الْمَبِيعِ وَقْتًا مَعْلُومًا
بیچنے والے کے لیے یہ شرط رکھنا جائز ہے کہ فروخت کیے گئے غلام سے مقررہ مدت تک خدمت لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة، حدثنا زيد بن الحُباب، عن الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ سلمان لما قَدِم المدينة أتى رسولَ الله ﷺ بهديةٍ على طَبَقٍ، فوضعها بين يديه، فقال:"ما هذا يا سلمانُ؟" قال: صدقةٌ عليك وعلى أصحابك، قال:"إني لا آكُلُ الصدقةَ" فرفعها، ثم جاءه من الغدِ بمثلها، فوضعها بين يديه، فقال:"ما هذا؟" قال: هديةٌ لك، فقال رسول الله ﷺ لأصحابه:"كُلُوا" قال:"لمن أنت؟" قال: لقومٍ، قال:"فاطلُب إليهم أن يُكاتِبُوك"، قال: فكاتَبُوني على كذا وكذا نخلةً أغرِسُها لهم، ويقومُ عليها سلمانُ حتى تُطعِمَ، قال: ففَعَلُوا، قال: فجاء النبيُّ ﷺ فغَرَسَ النخلَ كلَّه إلّا نخلةً واحدةً غرسَها عمرُ، وأطعَمَ نخلُه مِن سَنَتِه إِلَّا تلك النخلةَ، قال رسول الله ﷺ:"مَن غَرَسَها؟" قالوا: عمرُ، فَغَرَسَها رسولُ الله ﷺ من يده، فحَمَلَت من عامِها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، أخرجه الشيخُ أبو بكر في باب الرخصة في اشتراط البائع خدمةَ العبد المَبيع وقتًا معلومًا. وله شاهد من حديث ابن عباس عن سلمانَ صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2183 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے ایک تھال میں تحفہ رکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے سلمان! یہ کیا ہے؟ سلمان نے جواباً کہا، آپ کے لیے اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے لیے صدقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں صدقہ نہیں کھاتا ہوں۔ اس نے وہ تھال اٹھا لیا۔ پھر اگلے دن اسی طرح کا تحفہ لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: آپ کے لیے اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے لیے ہدیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اس کو کھاؤ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے (غلام) ہو؟ اس نے اپنے آقا کے قبیلے کا نام بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں سے مطالبہ کرو کہ وہ تمیں مکاتب بنا دیں، سلمان فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے مکاتب بنا دیا اور بدل کتاب یہ طے کیا کہ میں ان کے لیے ایک مخصوص تعداد میں درخت لگاؤں گا اور پھل آنے تک ان کی نگرانی بھی کروں گا۔ (راوی) فرماتے ہیں ان لوگوں نے ان کو مکاتب بنا دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور تمام درخت کاشت کر دیئے البتہ ایک درخت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کاشت کیا تو اس ایک درخت کے علاوہ باقی تمام درختوں پر اسی سال پھر آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ درخت کس نے لگایا تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خود اپنے ہاتھ سے کاشت کیا تو اگلے سال اس پر بھی پھل آ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ شیخ ابوبکر نے بیچنے والے کے لیے یہ شرط رکھنا جائز ہے کہ بیچا ہوا غلام ایک مقرر مدت تک اس کی خدمت کرے گا کے باب میں بیان کیا ہے۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سلمان کے حوالے سے روایت کی ہے۔ وہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح بھی ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ یہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2213]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2214
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا يعقوب أبو يوسف، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر، عن محمود بن لَبيد، عن ابن عباس، حدثني سلمانُ: أنَّ رجلًا من اليهود اشتراهُ، فقَدِم به المدينةَ، قال: فأَتيتُ رسولَ الله ﷺ بهديةٍ، فقلتُ: هذه صدقةٌ، فقال لأصحابه:"كُلُوا"، ولم يأكل. ثم ذكر الحديث نحوه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2184 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، ایک یہودی شخص ان کو خرید کر مدینہ منورہ لے آیا۔ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تحفہ لے کر آیا اور عرض کی، یہ صدقہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اس کو کھا لو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کھایا۔ پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2214]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2215
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع؛ كلهم عن أيوب، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يَحِلُّ سَلَفٌ وبَيعٌ، ولا شَرطانِ في بيعٍ، ولا رِبْحُ ما لم يُضْمَن، ولا بيعُ ما ليس عِندَك" (1) .
هذا حديث على شرطِ جملةٍ من أئمة المسلمين صحيحٌ، وهكذا رواه داود بن أبي هند وعبد الملك بن أبي سليمان وغيرُهم عن عمرو بن شعيب. ورواه عطاء بن مسلم الخُراساني عن عمرو بن شعيب بزيادات ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2185 - صحيح
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیع بشرط قرض جائز نہیں اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں۔ نہ ایسا منافع جس کا ضمان نہ ہو اور نہ ایسی چیز فروخت کرنا جائز ہے جو تمہارے پاس موجود نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث ائمہ مسلمین کے روایتِ حدیث کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور یونہی یہ حدیث داؤد بن ابی ہند اور عبدالملک بن ابی سلیمان اور دیگر محدثین نے بھی عمرو بن شعیب کے حوالے سے بیان کی ہے جبکہ عطاء بن مسلم الخراسانی نے بھی یہ حدیث عمرو بن شعیب کے حوالے سے بیان کی ہے، تاہم ان کی روایت میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔ (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2215]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں