🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن لبن الجلالة ، وعن أكل المجثمة ، وعن الشرب من فى السقاء .
رسولُ اللہ ﷺ نے گندی خوراک کھانے والے جانور کا دودھ پینے، باندھ کر مارے گئے جانور کا گوشت کھانے اور مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2278
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن لبن الجَلَّالة، وعن أكل المُجَثَّمة، وعن الشُّرب من في السِّقَاء (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن عبد الله بن عُمر وأبي هريرة، أما حديث ابن عُمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2247 - على شرط البخاري_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کے دودھ، مجثمہ (قید کر کے نشانہ بنائے گئے جانور) کو کھانے اور مشکیزے کے منہ سے براہِ راست پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے شواہد ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء، فهما صدوقان لا بأس بهما، وقد توبعا.» [ترقيم الرساله 2278] [ترقيم الشركة 2260] [ترقيم العلميه 2247]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2278 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء، فهما صدوقان لا بأس بهما، وقد توبعا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے اور یحییٰ بن ابی طالب و عبدالوہاب بن عطاء کی وجہ سے سند "قوی" ہے کیونکہ وہ صدوق ہیں اور ان کی تائید موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 5/ (3142) و (3143)، وابن حبان (5399) من طريق أبي عبد الصمد عبد العزيز بن عبد الصمد، وأحمد 4/ (2161) و 5/ (3142) عن محمد بن جعفر، والترمذي بإثر (1825) من طريق ابن أبي عدي، ثلاثتهم عن سعيد بن أبي عَروبة، بهذا الإسناد. غير أنَّ محمد بن جعفر قال في روايته: نهى عن المجثَّمة والجلّالة، فأطلق ذكر الجلالة دون تقييده بذكر لبنها، كرواية حماد بن سلمة عن قتادة المتقدمة برقم (1645).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابن حبان اور ترمذی نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے روایت کیا ہے، مگر محمد بن جعفر کی روایت میں "جلالہ" (گندگی کھانے والا جانور) کا ذکر مطلق ہے، اس میں دودھ کی قید نہیں ہے۔
وإنما المنهيُّ عنه من الجلّالة ثلاثةُ أمورٍ: شرب لبنها، كما جاء مقيَّدًا في رواية عبد الوهاب بن عطاء وعبد العزيز بن عبد الصمد، وكما في رواية هشام الدستوائي عن قتادة، وسيأتي تخريجها، وكما في حديث ابن عُمر الآتي بعده. ¤ ¤ ويُنهى عن أكلها كذلك، كما في بعض روايات حديث ابن عباس، وكما في حديث ابن عُمر الآتي بعده، وحديث عبد الله بن عمرو الآتي برقم (2300)، وحديث أبي هريرة الآتي برقم (2281).
📌 مرکزی تحقیق: جلالہ جانور کے بارے میں تین چیزیں ممنوع ہیں: اس کا دودھ پینا (جیسا کہ عبدالوہاب، عبدالعزیز اور ہشام کی روایات میں مقید ہے)، اس کا گوشت کھانا (جیسا کہ ابن عباس اور ابن عمر کی روایات میں ہے)، اور اس پر سواری کرنا۔
ويُنهى أيضًا عن ركوبها، كما في رواية حماد بن سلمة عن قتادة الآتية برقم (2528)، وكما في حديث ابن عُمر الآتي برقم (2280)، وحديث عبد الله بن عَمرو الآتي برقم (2529).
🧩 متابعات و شواہد: سواری کی ممانعت حماد بن سلمہ عن قتادہ (نمبر 2528) اور ابن عمر (نمبر 2280) کی روایات میں آئے گی۔
وأخرجه أحمد 3/ (1989) و 4/ (2671) و 5/ (2949)، وأبو داود (3786)، والترمذي (1825)، والنسائي (4522) و (6837) من طريق هشام الدستُوائي، عن قتادة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (3786)، ترمذی اور نسائی نے ہشام الدستوائی عن قتادہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد رواه أيوب عن عكرمة، فقال: عن أبي هريرة، بدل: ابن عباس، وهذا اختلاف لا يضر مثله، لأنَّ الإسناد حيث دار كان عن صحابي، ولهذا أخرج البخاري كلا الحديثين برقم (5628) و (5629) واقتصر فيهما على النهي عن الشرب من في السقاء.
⚠️ سندی اختلاف: ایوب نے عکرمہ سے روایت کرتے ہوئے اسے "ابوہریرہ" سے منسوب کیا ہے بجائے ابن عباس کے، مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ دونوں صحابی ہیں، امام بخاری نے دونوں کی روایات (5628، 5629) نقل کی ہیں۔
والجلّالة من الحيوان: التي تأكل العَذِرة، والجِلَّة: البعر، فوُضِع مَوضع العَذِرة، يقال: جَلَّت الدابة الجِلَّة، واجتلَّتها، فهي جالَّة وجلّالة: إذا التقطتها.
📝 توضیح: "جلالہ" اس جانور کو کہتے ہیں جو انسانی فضلہ کھائے، "جِلّہ" لغت میں لید کو کہتے ہیں جو یہاں فضلے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
وقال الحربي في "غريبه" 1/ 115: إنما نُهي عن ألبانها، لأنَّ آكله يجد فيه طعم ما أكلت، وكذلك في لحومها، ونُهي عن ركوبها لأنها تعرق، فتوجد رائحته في عَرَقها، وراكبها لا يخلو أن يُصيبه ذلك أو يجدَ رائحته، فإن تحفَّظَ من ذلك جاز ركوبها، ولم يجُز شربُ ألبانها ولا أكلُ لحومها، إلّا أن يُصنَع بها ما يُزيلها.
📌 اہم نکتہ: علامہ حربی فرماتے ہیں کہ دودھ اور گوشت سے اس لیے روکا گیا کیونکہ اس میں فضلے کا ذائقہ آ جاتا ہے، اور سواری سے اس لیے روکا گیا کیونکہ اس کے پسینے میں بدبو ہوتی ہے جو سوار کو لگ سکتی ہے، اگر اسے پاک کر لیا جائے (یعنی مخصوص دن تک صاف چارہ کھلایا جائے) تو یہ جائز ہو جاتا ہے۔
وقال الشافعي فيما نقله عنه ابن عبد البر في "التمهيد" 15/ 180: الجلالة المكروه أكلها إذا لم يكن أكله غير العَذِرة، أو كانت العذرة أكثر أكله، فإن كان أكثر أكله وعلفه غير العَذِرة لم أكرهه.
⚖️ فقہی نکتہ: امام شافعی کے نزدیک جلالہ وہ ہے جس کی اکثر خوراک فضلہ ہو، اگر وہ دوسری چیزیں زیادہ کھاتا ہو تو وہ مکروہ نہیں۔
وأما المجثَّمة، فقال الخطابي في "المعالم" 4/ 273: هي المصبُورة، وذلك أنها قد جُثّمت على الموت، أي: حُبست عليه، بأن تُوثق وتُرمى حتى تموت.
📝 توضیح: امام خطابی فرماتے ہیں کہ "المجثمہ" اس جانور کو کہتے ہیں جسے باندھ کر نشانہ بنا کر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
ويشهد للنهي عن المجثَّمة غير ما حديثٍ كما سيأتي عند حديث العرباض برقم (2639).
🧩 متابعات و شواہد: المجثمہ کی ممانعت کے شواہد آگے عرباض بن ساریہ کی حدیث (نمبر 2639) میں آئیں گے۔
وأما الشرب من في السقاء، فقال ابن الجوزي في "كشف المشكل" 2/ 433: إنما نهي عن ذلك لخمسة معانٍ، أحدها: أنه ربما كانت في السقاء هامّة أو قَذاة فانتشرت في الحلق، والثاني: أنه ربما وقع الشَّرَق باندفاق الماء، والثالث: أنه لا يمكن مصُّ الماء، بل يقع العَبُّ الذي يؤذي الكبد، والرابع: أنه يُغيّر ريح السقاء، والخامس: أنه يتخايل الشارب الثاني رجوع شيء من فم الأول فيستقذره.
📌 اہم نکتہ: ابن الجوزی نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت کی پانچ وجوہات بیان کی ہیں: کوئی موذی جانور یا گندگی حلق میں جا سکتی ہے، پانی اچانک گرنے سے سانس رک سکتا ہے، جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، مشکیزے میں بو پیدا ہو سکتی ہے، اور دوسرا پینے والا اسے گھن محسوس کر سکتا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2278 in Urdu