المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
74. لا يغلق الرهن له غنمه وعليه غرمه
گروی رکھی ہوئی چیز بند نہیں ہوتی، اس کا نفع مالک کا ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔
حدیث نمبر: 2353
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحَسَن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن سُليمان المِصِّيصي، حدثنا أبو هَمَّام محمد بن الزِّبْرِقان، حدثنا أبو حيّان التَّيمي، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"يقولُ الله: أنا ثالثُ الشَّرِيكَينِ ما لم يخُنْ أحدُهما صاحِبَه، فإذا خانَ خرجتُ من بينِهما" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2322 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2322 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے فریقین اگر ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کریں تو ان دونوں میں تیسرا ” میں “ ہوتا ہوں اور اگر کوئی خیانت کرے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2353]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2353 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة والد أبي حيان التيمي - واسم أبي حيان: يحيى بن سعيد بن حيان - وبذلك أعله ابن القطان في "بيان الوهم" 4/ 490، وأعله الدارقطني في "العلل" (2084) بعلة أخرى، وهي أنَّ جرير بن عبد الحميد وغيره قد خالفوا فيه محمد بن الزبرقان، فأرسلوه، قال: وهو الصواب.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوحیا تیمی کے والد کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ ابن القطان نے "بیان الوہم" (4/ 490) اور دارقطنی نے "العلل" (2084) میں اسے جریر بن عبدالحمید کی مخالفت اور مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے، اور مرسل ہی صواب ہے۔
وأخرجه أبو داود (3383) عن محمد بن سليمان المِصِّيصي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد (3383) نے محمد بن سلیمان مصیصی کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
ورواية جرير بن عبد الحميد التي أشار إليها الدارقطني أخرجها في "سننه" (1934)، لكن الراوي عنه فيها أبو ميسرة أحمد بن عبد الله بن ميسرة النهاوندي، وهو متروك الحديث.
⚠️ نوٹ / توضیح: جریر بن عبدالحمید کی روایت جو دارقطنی (1934) میں ہے، اس کا راوی احمد بن عبداللہ نہاوندی "متروک" ہے۔