المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. الذى مات مرابطا فى سبيل الله ينمو له عمله إلى يوم القيامة ويؤمن فتنة القبر .
جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے
حدیث نمبر: 2670
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج، عن أبي ذرّ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس من فرسٍ عَرَبي إلّا يُؤذَنُ له مع كلّ فَجْرٍ بدعوتَين، يقول: اللهم إنك خَوّلْتَني مَن خَوّلْتَني مِن بني آدم، فاجعلْني أحبَّ أهلِه ومالِه إليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2638 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2638 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر عربی گھوڑے کے لیے ہر صبح دو دعاؤں کی اجازت دی جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے: اے اللہ! تو نے مجھے آدم کی ملکیت میں دیا ہے تو مجھے اس کی نظر میں اس کے تمام مال اور اہل و عیال سے زیادہ محبوب کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2670]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2670 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح موقوفًا على أبي ذرّ الغفاري كما بيناه برقم (2488)، فقد تقدم هناك من طريق رَوح بن عُبادة عن عبد الحميد بن جعفر.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ پر "موقوف" ہونے کی حیثیت سے "صحیح" ہے، جیسا کہ ہم نے نمبر (2488) کے تحت واضح کیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: وہاں یہ روح بن عبادہ از عبدالحمید بن جعفر کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد (35/ 21497) عن يحيى بن سعيد القطان، والنسائي (4390) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد نے (35/21497) میں یحییٰ بن سعید القطان کے واسطے سے کی ہے، اور امام نسائی نے (4390) میں عمرو بن علی الفلاس سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔