🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ .
جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2669
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني حَيْوة بن شُريح، أخبرني أبو هانئ حُميد بن هانئ الخَوْلاني، أنَّ عمرو بن مالك الجَنْبي أخبره، أنه سمع فَضَالة بن عُبيد يحدِّث عن رسول الله ﷺ، قال:"مَن ماتَ على مَرْتَبةٍ من هذه المَراتِب، بُعِث عليها يومَ القيامة: رِباطٌ، أو حجٌّ، أو غيرُ ذلك" (2) .
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جس (نیک عمل کی) حالت پر فوت ہو، قیامت کے دن اسی حالت پر اٹھایا جائے گا، خواہ وہ سرحد کی پہرہ داری ہو، حج ہو یا کوئی اور عمل۔ نیز فضالہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی نقل کیا: ہر مرنے والے کے عمل پر (موت کے ساتھ ہی) مہر لگا دی جاتی ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں پہرہ داری کی حالت میں فوت ہو، اس کا نیک عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو المُوَجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وعَبْدان لقبُه، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 2669] [ترقيم الشركة 2652]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2669M
قال فَضَالةُ: وسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كلُّ مَيتٍ يُختَم على عَمَله إِلَّا الذي مات مُرابطًا في سبيل الله، يَنمُو له عملُه إلى يوم القيامة، ويُؤْمَّنُ فتنةَ القبر" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت پر ختم کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحدوں کی نگہبانی (رباط) کرتے ہوئے فوت ہو، اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے، اور اسے قبر کی آزمائش (فتنے) سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2669M]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2669M] [ترقيم الشركة 2652/1]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2670
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج، عن أبي ذرّ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس من فرسٍ عَرَبي إلّا يُؤذَنُ له مع كلّ فَجْرٍ بدعوتَين، يقول: اللهم إنك خَوّلْتَني مَن خَوّلْتَني مِن بني آدم، فاجعلْني أحبَّ أهلِه ومالِه إليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2638 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی بھی عربی گھوڑا ایسا نہیں ہے جسے ہر سحر کے وقت دو دعائیں مانگنے کی اجازت نہ دی جاتی ہو، وہ کہتا ہے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ» اے اللہ! تو نے بنی آدم میں سے جس کے قبضے میں مجھے دیا ہے، مجھے اس کے نزدیک اس کے اہل اور مال سے زیادہ محبوب بنا دے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على أبي ذرّ الغفاري كما بيناه برقم (2488)، فقد تقدم هناك من طريق رَوح بن عُبادة عن عبد الحميد بن جعفر.» [ترقيم الرساله 2670] [ترقيم الشركة 2653] [ترقيم العلميه 2638]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا على أبي ذرّ الغفاري كما بيناه برقم (2488)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2671
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن سهل (2) ، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، عن أبي حيّان التَّيْمي، عن أبي زُرعة، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان يُسمّي الأُنثى من الخيل فَرَسًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2639 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑی (مادہ گھوڑے) کو بھی فرس پکارتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو حَيَّان التَّيْمي: هو يحيى بن سعيد بن حيّان، وأبو زُرعة: هو ابن عمرو بن جرير بن عبد الله البَجَلي.» [ترقيم الرساله 2671] [ترقيم الشركة 2654] [ترقيم العلميه 2639]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں