المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ .
جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے
حدیث نمبر: 2669
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني حَيْوة بن شُريح، أخبرني أبو هانئ حُميد بن هانئ الخَوْلاني، أنَّ عمرو بن مالك الجَنْبي أخبره، أنه سمع فَضَالة بن عُبيد يحدِّث عن رسول الله ﷺ، قال:"مَن ماتَ على مَرْتَبةٍ من هذه المَراتِب، بُعِث عليها يومَ القيامة: رِباطٌ، أو حجٌّ، أو غيرُ ذلك" (2) .
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان (درج ذیل) مراتب میں کسی بھی مرتبہ پر مرے، قیامت کے دن اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔ (1) سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے۔ (2) حج کرتے ہوئے۔ یا (شاید اس کی جگہ کوئی) دوسرا عمل بتایا۔ فضالہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن رکھا ہے: ہر مرنے والے کے تمام اعمال سربمہر کر دیئے جاتے ہیں سوائے اس شخص کے جو راہِ خدا میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے مرے کہ اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اس کو فتنہ قبر سے امان دی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2669]
حدیث نمبر: 2669M
قال فَضَالةُ: وسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كلُّ مَيتٍ يُختَم على عَمَله إِلَّا الذي مات مُرابطًا في سبيل الله، يَنمُو له عملُه إلى يوم القيامة، ويُؤْمَّنُ فتنةَ القبر" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر مرنے والے کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے (یعنی عمل ختم ہو جاتا ہے) سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد کی پہرے داری (رِیاط) کرتے ہوئے فوت ہوا، اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہتا ہے اور اسے قبر کے فتنے (آزمائش) سے محفوظ کر دیا جاتا ہے“۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2669M]
حدیث نمبر: 2670
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج، عن أبي ذرّ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس من فرسٍ عَرَبي إلّا يُؤذَنُ له مع كلّ فَجْرٍ بدعوتَين، يقول: اللهم إنك خَوّلْتَني مَن خَوّلْتَني مِن بني آدم، فاجعلْني أحبَّ أهلِه ومالِه إليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2638 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2638 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر عربی گھوڑے کے لیے ہر صبح دو دعاؤں کی اجازت دی جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے: اے اللہ! تو نے مجھے آدم کی ملکیت میں دیا ہے تو مجھے اس کی نظر میں اس کے تمام مال اور اہل و عیال سے زیادہ محبوب کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2670]
حدیث نمبر: 2671
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن سهل (2) ، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، عن أبي حيّان التَّيْمي، عن أبي زُرعة، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان يُسمّي الأُنثى من الخيل فَرَسًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2639 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2639 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑیوں کو ” فرس “ کا نام دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2671]