المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. ذكر مكاتبته صلى الله عليه وآله وسلم حين صالح قومه قريشا .
صلحِ قریش کے وقت سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تحریر کا بیان
حدیث نمبر: 2691
أخبرنا مُكرَم بن أحمد بن مكرم القاضي، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا أبو عَتَّاب سهل بن حمّاد، حدثنا عبد الملك بن أبي نَضْرة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ أتاه مال، فجعل يَضرِب بيده فيه فيُعطي يمينًا وشمالًا، وفيهم رجل مُقَلَّص الثياب، ذو سِيْماءَ، بين عَينَيه أثرُ السجود، فجعل رسولُ الله ﷺ يضرب يدَه يمينًا وشمالًا حتى نَفِد المالُ، فلما نَفِدَ المالُ ولَّى مُدبرًا، وقال: والله ما عدلتَ منذ اليومِ. قال: فجعل رسولُ الله ﷺ يُقلِّب كفّه، ويقول:"إذا لم أعدِلْ فمن ذا يَعدلُ بعدي؟ أَمَا إِنه سَتَمْرُق مارِقةٌ، يَمرُقون من الدِّين مُروق السهم من الرَّمِيّة، ثم لا يعُودون إليه حتى يَرجِعَ السهمُ على فُوقِه، يقرؤون القرآن لا يجاوز تَراقِيهَم، يُحسِنون القولَ ويُسيئون الفعلَ، فمن لقيَهم فليقاتلْهم، فمن قتلهم فله أفضلُ الأجر، ومن قتَلُوه فله أفضل الشهادة، هم شرُّ البَرّيّة، بَرِئ اللهُ منهم، تقتلهم أَولى الطائفتَين بالحقّ" (1) .
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) ، وعبد الملك بن أبي نَضْرة من أعزّ البصريين حديثًا، ولا أعلم أني عَلَوت له في حديث غير هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2659 - صحيح
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) ، وعبد الملك بن أبي نَضْرة من أعزّ البصريين حديثًا، ولا أعلم أني عَلَوت له في حديث غير هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2659 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ (غنیمت کا) مال آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال اپنے دائیں بائیں (بیٹھے ہوئے لوگوں کو) دینا شروع کر دیا۔ ان میں ایک سمٹے ہوئے کپڑوں والا شخص بھی موجود تھا۔ اس کی پیشانی پر سجدوں کا اثر تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں بائیں مال بانٹتے رہے، حتیٰ کہ سارا مال ختم ہو گیا۔ جب مال ختم ہو گیا تو وہ شخص وہاں سے چلا گیا اور جاتے جاتے بولا! خدا کی قسم! آج تو نے عدل نہیں کیا۔ (راوی) فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے بولے: جب میں ہی عدل نہیں کروں گا تو میرے بعد اور کون عمل کرے گا۔ اور عنقریب کچھ لوگ خارجی ہو جائیں گے یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے، پھر یہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے جیسے تیر اپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا۔ یہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، یہ گفتگو تو بہت اچھی کریں گے لیکن ان کے اعمال برے ہوں گے۔ جس کو یہ ملیں، اس کو چاہیے کہ وہ ان کو قتل کر دے۔ جو ان کو قتل کرے گا، اس کے لیے بہترین اجر ہے اور جو ان کے ہاتھوں قتل ہو گا وہ بہترین شہید ہے۔ یہ تمام مخلوق سے بدتر لوگ ہوں گے۔ اللہ ان سے بری ہے۔ ان کو دو جماعتوں میں سے وہ قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو اس انداز کے ساتھ نقل نہیں کیا ہے۔ اور عبدالملک بن ابی نضرہ بصرہ کے تمام محدثین سے زیادہ عزیزالحدیث ہیں۔ اور میرے علم میں نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور حدیث میں میری سند (اس جیسی) عالی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2691]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2691 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الملك بن أبي نضرة وسهل بن عتَّاب. وأخرجه بنحوه أحمد 18/ (11537) و (11621)، والبخاري (6163) و (6933)، ومسلم (1064)، والنسائي (8507) و (8508) و (11156) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، وأحمد 18/ (11621)، والبخاري (6163)، ومسلم (1064)، والنسائي (8508) من طريق الضحاك المِشْرقي، وأحمد 17/ (111008) و 18/ (11648) و (11695)، والبخاري (4351) و (4667) و (7432)، ومسلم (1064)، وأبو داود (4764)، والنسائي (2370) و (3550) و (11157)، وابن حبان (25) من طريق عبد الرحمن بن أبي نُعْم، كلهم عن أبي سعيد الخُدْري، وسموا في روايتهم هذا الرجل المذكور بذي الخويصرة التميمي، وذكر ابن أبي نعم في روايته أنَّ هذا كان في قسم ذهيبة أرسل بها علي بن أبي طالب للنبي ﷺ من اليمن، وأنه ﷺ قسمها بين أربعة من المؤلفة قلوبهم، ووقع وصف هذا الرجل المذكور عنده بأنه كان غائر العينين، مشرِفَ الوجنتين، ناشز الجبهة، كثّ اللحية، مشمّر الإزار، محلوق الرأس.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عبد الملک بن ابی نضرہ اور سہل بن عتاب کی وجہ سے حسن ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: احمد 18/ (11537) و (11621)، بخاری (6163) و (6933)، مسلم (1064)، نسائی (8507، 8508، 11156) از طریق ابوسلمہ بن عبد الرحمن؛ احمد (11621)، بخاری (6163)، مسلم (1064)، نسائی (8508) از طریق ضحاک المشرقی؛ احمد (111008، 11648، 11695)، بخاری (4351، 4667، 7432)، مسلم (1064)، ابو داود (4764)، نسائی (2370، 3550، 11157) اور ابن حبان (25) از طریق عبد الرحمن بن ابی نعم، یہ سب ابوسعید خدری سے مروی ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس شخص کا نام "ذو الخویصرہ تمیمی" بتایا گیا ہے۔ یہ واقعہ سونے کی اس ڈلی کی تقسیم کے وقت کا ہے جو حضرت علی نے یمن سے بھیجی تھی۔ اس شخص کا حلیہ: دھنسی آنکھیں، ابھری گالیں، اونچی پیشانی، گھنی داڑھی، اونچی لنگی اور منڈا ہوا سر بیان کیا گیا ہے۔
وزاد أبو سلمة والضحاك: أنَّ عمر بن الخطاب سأل النبي ﷺ قتلَه، وفي رواية ابن أبي نُعْم أنَّ خالد بن الوليد هو مَن سأل النبي ﷺ ذلك. قال الحافظ في "الفتح" 12/ 626: لا تنافي بينهما، لاحتمال أن يكون كلٌّ منهما سأل في ذلك.
🧾 تفصیلِ روایت: ابوسلمہ اور ضحاک کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے اس کے قتل کی اجازت مانگی، جبکہ ابن ابی نعم کی روایت میں حضرت خالد بن ولید کا ذکر ہے۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" 12/ 626 میں فرمایا کہ ان میں تضاد نہیں، ممکن ہے دونوں نے ہی اجازت مانگی ہو۔
وزاد أبو سلمة والضحاك في روايتهما أيضًا تمثيل النبي ﷺ لمروق هؤلاء بنحو ما تقدم برقم (2682) من طريق قتادة، عن أبي المتوكل الناجيّ، عن أبي سعيد الخُدْري.
🧩 متابعات و شواہد: ابوسلمہ اور ضحاک کی روایت میں ان خوارج کے دین سے نکل جانے کی مثال اسی طرح بیان ہوئی ہے جیسے حدیث نمبر (2682) میں قتادہ عن ابی المتوکل عن ابی سعید الخدری کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وقد تقدَّم منه ذكر مروق هذه المارقة إلى آخر الحديث بنحوه برقم (2681) من طريق قتادة عن أنس بن مالك وأبي سعيد الخُدْري. وانظر تمام تخريجه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اس فتنے کے دین سے نکلنے کا تذکرہ حدیث نمبر (2681) میں قتادہ عن انس و ابی سعید کے طریق سے گزر چکا ہے، مکمل تخریج وہاں دیکھیں۔
(2) قد أخرج الشيخان نحوه بزيادات ليست في حديثنا هنا كما تقدَّم التنبيه عليه.
📝 نوٹ / توضیح: بخاری و مسلم (شیخین) نے اس کے ہم معنی روایات کچھ ایسے اضافوں کے ساتھ نقل کی ہیں جو یہاں موجود نہیں، جیسا کہ پہلے بتایا گیا۔