🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. مشيه صلى الله عليه وآله وسلم ومداراته للأضياف
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی چال اور مہمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2953
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا هشام بن علي السِّيرافي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمْران بن حُصَين: أنه سمع النبيَّ ﷺ يقرأ (وتَرَى الناسَ سَكْرَى) [الحج: 2] . هكذا كَتَبناه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2917 - الحكم بن عبد الملك واه
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے سے کافی آگے پیچھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو آیتیں بلند آواز کے ساتھ پڑھیں۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ (۱) یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَٰلکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ (سورۃ الحج: 2 , 1) اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں اور نشے میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی آواز سنی تو اپنی سواریاں روک لیں اور وہ سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرمانا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو آج کون سا دن ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: اے آدم! میں آگ میں جماعتیں بھیجوں گا۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی: اس جماعت کی تعداد کتنی ہو گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 1000 میں سے 999جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا (یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت شکستہ دل ہوئے، کسی کے چہرے پر ذرا بھی مسکراہٹ نہ رہی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: جان لو! تمہیں خوشخبری ہو، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ تمہارے ساتھ دو مخلوقیں ایسی ہیں کہ یہ جس کے بھی ساتھ ہوں ان کو کثیر کر دیتی ہیں (وہ دو مخلوقیں) یاجوج اور ماجوج ہیں اور جتنے انسان اور جتنے شیاطین ہلاک ہو چکے ہیں وہ بھی تم میں ہی شامل ہیں (یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حالت کچھ سنبھلی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو: خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، تمہاری تعداد تمام لوگوں میں ایسی ہے جیسے اونٹ کے پہلو میں تل، یا کسی جانور کی ٹانگ پر گوشت کا ابھرا ہوا چھوٹا سا ٹکڑا، ٭٭ یہ ہشام دستوائی کی حدیث صحیح ہے کیونکہ ہمارے اکثر متقدمین آئمہ کا یہ موقف ہے کہ حسن نے عمران بن حصین رحمۃ اللہ علیہ سے سماع کیا ہے لیکن جب ہشام رحمۃ اللہ علیہ اور حکم بن عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ کا اختلاف ہو جائے تو ہشام رحمۃ اللہ علیہ کا قول معتبر ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2953]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2953 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك.
⚖️ تضعیف: یہ سند حکم بن عبدالملک کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه أبو عمر الدُّوري في "قراءات النبي ﷺ" (83)، والبزار (3550) من طريق إسحاق بن منصور، عن الحكم بن عبد الملك، بهذا الإسناد. قال البزار: وهذا الكلام لا نعلمه يُروى إلّا عن عمران بن حصين، لا نعلمه رواه عن النبي ﷺ غيره، ولا نعلم له طريقًا عنه غير هذا الطريق، اختصره الحكم بن عبد الملك، وذكر القراءة فيه فصار حديثًا برأسه، والحَكَم ليس بالقوي إلّا أنه قد حدَّث عنه غير واحد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے ابوعمر الدوری نے "قراءات النبی ﷺ" (83) اور بزار (3550) نے اسحاق بن منصور عن الحکم بن عبدالملک کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ بزار نے کہا: ہم اس کلام کو صرف عمران بن حصین سے جانتے ہیں، اسے نبی ﷺ سے ان کے علاوہ کسی نے اور ان سے اس طریق کے علاوہ کسی طریق سے روایت نہیں کیا۔ حکم بن عبدالملک نے اسے مختصر کر کے اس میں قراءت کا ذکر کیا تو یہ ایک الگ حدیث بن گئی۔ حکم قوی نہیں مگر متعدد لوگوں نے ان سے روایت کی ہے۔
وقد أخطأ محقق كتاب "قراءات النبي" فأثبت في المتن (سكارى) بضم السين وبألف، وأشار إلى أنه وقع في أصله: (سَكرى) بلا ألف! قلنا: وهو الصواب، فقد نصَّ ابن أبي حاتم في "العلل" (2828) على أنَّ رواية إسحاق بن منصور السَّلولي (سَكْرى)، بنصب السين بغير ألف.
📝 تصحیح و تنبیہ: کتاب "قراءات النبی" کے محقق نے غلطی کھائی اور متن میں (سكارى) پیش اور الف کے ساتھ ثابت کیا، حالانکہ اشارہ کیا کہ اصل میں (سَكرى) بلا الف تھا۔ ہم کہتے ہیں: وہی (سَكرى) درست ہے، کیونکہ ابن ابی حاتم نے "العلل" (2828) میں تصریح کی ہے کہ اسحاق بن منصور السلولی کی روایت (سَكْرَى) سین کے فتحہ (زبر) اور بغیر الف کے ہے۔
وسيأتي حديث الحكم بن عبد الملك عند المصنف برقم (3004) و (3492) من رواية الحسن بن بشر عنه، وفيه: (وترى الناس سُكَارى) برفع السين وبألف كما نصَّ عليه ابن أبي حاتم أيضًا، ثم نقل عن أبي زرعة الرازي أنه قال وقد سئل عن هذين الحرفين: ليس ذا ولا ذاك، قد روى الثقات فلم يذكروا فيه الحروف، لم يذكروا قراءةً.
📌 حوالہ: حکم بن عبدالملک کی حدیث مصنف کے ہاں آگے نمبر (3004) اور (3492) پر حسن بن بشر کی روایت سے آئے گی، جس میں (وترى الناس سُكَارى) سین کے پیش اور الف کے ساتھ ہے جیسا کہ ابن ابی حاتم نے بھی تصریح کی ہے۔ پھر ابوزرعہ رازی سے نقل کیا کہ ان سے ان دو حروف کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا: "نہ یہ اور نہ وہ، ثقہ راویوں نے روایت کیا تو اس میں حروف (قراءت) کا ذکر نہیں کیا، قراءت ذکر نہیں کی۔"
وحديث الحكم هذا قطعة من حديث طويل، رواه غيره عن قتادة عن الحسن عن عمران كما في الحديث التالي وكما سلف برقم (78)، وفيه: (وترى الناس سُكَارى)، وهي قراءة ابن كثير ونافع وعاصم وابن عامر وأبي عمرو من السبعة، وقرأ حمزة والكسائي: (سَكْرَى) في الموضعين بغير ألف فيهما والسين مفتوحة، كما في كتاب "السبعة" لابن مجاهد ص 434.
🔍 فنی نکتہ: حکم کی یہ حدیث ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے جسے دوسروں نے قتادہ عن الحسن عن عمران سے روایت کیا ہے (اگلی حدیث اور سابقہ نمبر 78 دیکھیں)۔ اس میں (وترى الناس سُكَارى) ہے، جو ابن کثیر، نافع، عاصم، ابن عامر اور ابوعمرو کی قراءت ہے (ساتوں میں سے)۔ جبکہ حمزہ اور کسائی نے دونوں جگہ (سَكْرَى) بغیر الف اور سین کے زبر (مفتوحہ) کے ساتھ پڑھا ہے۔ (کتاب "السبعۃ" لابن مجاہد ص 434)۔
وقد جاء هذا الحرف في حديث أبي سعيد الخدري - الذي بنحو حديث عمران الطويل - عند ¤ ¤ البخاري (4741)، ووقع فيه خلاف بين الرواة، فمنهم من ذكره بالألف ومنهم من ذكره بلا ألف.
🧩 شاہد: یہ حرف ابوسعید خدری کی حدیث میں بھی آیا ہے (جو عمران کی طویل حدیث کی مثل ہے) جسے بخاری (4741) نے روایت کیا ہے۔ وہاں راویوں میں اختلاف ہوا ہے، کسی نے اسے الف کے ساتھ اور کسی نے بغیر الف کے ذکر کیا ہے۔