المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. مَشْيُهُ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمُدَارَاتُهُ لِلْأَضْيَافِ
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی چال اور مہمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک
حدیث نمبر: 2950
أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجَّاج بن محمد، أخبرني ابن جُرَيج، عن إسماعيل بن كَثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة، عن أبيه لَقِيط بن صَبِرة وافد بني المُنتفِق، قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ أنا وصاحبٌ لي فلم نَجِدْه، فأطعَمَتْنا عائشةُ تمرًا وعَصِيدةً، وقال: فلم نَلبَثْ أن جاء النبي ﷺ يَتقلَّعُ يتكفَّأُ، قال:"أطَعِمتُما شيئًا؟" قلنا: نعم، قال: فبينما نحن كذلك إذ جاء الراعي وعلى يدِه سَخْلةٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أَوَلَّدْتَ (1) ؟" قال: نعم، قال:"ماذا؟" قال بَهْمةً، قال:"اذبَحْ مكانَها شاةً"، ثم أَقبَلَ عليَّ فقال:"لا تَحسِبَنَّ أنَّا إنما ذَبَحْناها من أجلِك، لنا غنمٌ مئةٌ (2) لا نحبُّ أن تزيدَ، فإذا حَمَلَ الراعي بَهْمةً ذَبحْنا مكانَها شاةً" (3) . قال ابن جُرَيج: قال رسول الله ﷺ:"لا تَحسِبَنَّ"، ولم يقل: لا تَحسَبَنَّ. رواه سفيان الثَّوْري عن أبي هاشم عن عاصم بن لَقيط بهذه الرواية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2914 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2914 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ جو بنی منتفق کے وفد کے ہمراہ آئے تھے کہتے ہیں: میں اور میرا دوست ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری ملاقات نہ ہو سکی، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں کھجوریں اور عصیدہ (ایک قسم کا کھانا ہے جو آٹا اور گھی کو ملا کر بنایا جاتا ہے) کھلایا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فاقہ کشی اور نقاہت کی وجہ سے) لڑکھڑاتے ہوئے اور آگے کو جھک کر چلتے ہوئے تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آتے ہی پوچھا: تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ ابھی ہم لوگ وہیں پر تھے کہ ایک چرواہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے اپنے کندھے پر بکری کا بچہ اٹھایا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بکری نے بچہ جنا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: بکری کا بچہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بجائے بکری ذبح کر لو۔ پھر میرے پاس لے کر آؤ۔ اس نے کہا: آپ یہ مت سمجھیے گا کہ ہم نے اس کو آپ کی وجہ سے ذبح کرنا ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں ہم ان کی تعداد اس سے زیادہ نہیں کرنا چاہتے، اس لیے جب کوئی بکری بچہ پیدا کرتی ہے ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔ ابن جریج رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَاتَحْسَبَنَّ فرمایا۔ لا یحسبنَّ نہیں فرمایا۔ ٭٭ اسی حدیث کو سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے ابوہاشم رحمۃ اللہ علیہ کے واسطے سے عاصم بن لقیط رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2950]
حدیث نمبر: 2951
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا أبو أحمد، حدثنا سفيان، عن أبي هاشم، عن عاصم بن لَقِيط، عن أبيه، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا تَحسِبَنَّ"، ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2915 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2915 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عاصم بن لقیط رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” لا تحسبَنَّ “ کہا اور ” لَا یَحسبَن “ نہیں کہا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2951]
حدیث نمبر: 2952
حدثنا بُكَير بن محمد بن سهل الصُّوفي بمكة، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَرِي، حدثنا أحمد بن القاسم بن أبي بَزَّة، حدثنا داود بن شِبْل بن عبَّاد المكي، عن أبيه، عن عبد الله بن كَثِير القارئ، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس قال: قرأتُ على أُبيِّ بن كعب: ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا﴾ بالتاء ﴿وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ﴾ [البقرة: 48] ، قال أُبيٌّ: أقرأَني رسول الله ﷺ: ﴿لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا﴾ بالتاء (ولا تُقبَلُ منها شفاعةٌ) بالتاء، ﴿وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ﴾ بالياء (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2916 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2916 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی: وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا (البقرۃ: 48) ” اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہو سکے گی “۔ (ترجمعہ کنزالایمان،) (اور اس میں تجزی میں) تاء پڑھی اور یہ آیت بھی پڑھی۔ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ (البقرہ: 48) ” اور نہ کافر کے لیے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد کی ہو “۔ تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” لا تجزی نفسٌ عن نفسِ شیئًا “ تاء کے ساتھ۔ ولا تُقبل منھا شفاعۃٌ “ تاء کے ساتھ۔ ولا یؤخذُ منھا عدلٌ “ یاء کے ساتھ پڑھائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2952]
حدیث نمبر: 2953
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا هشام بن علي السِّيرافي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمْران بن حُصَين: أنه سمع النبيَّ ﷺ يقرأ (وتَرَى الناسَ سَكْرَى) [الحج: 2] . هكذا كَتَبناه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2917 - الحكم بن عبد الملك واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2917 - الحكم بن عبد الملك واه
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے سے کافی آگے پیچھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو آیتیں بلند آواز کے ساتھ پڑھیں۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ (۱) یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَٰلکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ (سورۃ الحج: 2 , 1) ” اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں اور نشے میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی آواز سنی تو اپنی سواریاں روک لیں اور وہ سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرمانا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو آج کون سا دن ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: اے آدم! میں آگ میں جماعتیں بھیجوں گا۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی: اس جماعت کی تعداد کتنی ہو گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 1000 میں سے 999جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا (یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت شکستہ دل ہوئے، کسی کے چہرے پر ذرا بھی مسکراہٹ نہ رہی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: جان لو! تمہیں خوشخبری ہو، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ تمہارے ساتھ دو مخلوقیں ایسی ہیں کہ یہ جس کے بھی ساتھ ہوں ان کو کثیر کر دیتی ہیں (وہ دو مخلوقیں) یاجوج اور ماجوج ہیں اور جتنے انسان اور جتنے شیاطین ہلاک ہو چکے ہیں وہ بھی تم میں ہی شامل ہیں (یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حالت کچھ سنبھلی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو: خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، تمہاری تعداد تمام لوگوں میں ایسی ہے جیسے اونٹ کے پہلو میں تل، یا کسی جانور کی ٹانگ پر گوشت کا ابھرا ہوا چھوٹا سا ٹکڑا، ٭٭ یہ ہشام دستوائی کی حدیث صحیح ہے کیونکہ ہمارے اکثر متقدمین آئمہ کا یہ موقف ہے کہ حسن نے عمران بن حصین رحمۃ اللہ علیہ سے سماع کیا ہے لیکن جب ہشام رحمۃ اللہ علیہ اور حکم بن عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ کا اختلاف ہو جائے تو ہشام رحمۃ اللہ علیہ کا قول معتبر ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2953]
حدیث نمبر: 2954
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كنا مع رسول الله ﷺ فِي مَسِيرٍ وقد تَفاوَتَ بين أصحابه في السَّير، فرَفَع بهاتين الآيتين صوتَه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 1 - 2] ، فلما سمع ذلك أصحابُه حَثُّوا المَطِيَّ، وعرفوا أنه عند قولٍ يقولُه، فقال:"أتدرونَ أيُّ يومٍ ذاكم؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"يومَ ينادي آدمَ رَبُّه فيقول: يا آدمُ، ابعَثْ بَعْثَ النار، قال: يا رب، وما بعثُ النار؟ قال: من كلِّ ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعةٌ وتسعون في النار، وواحدٌ في الجنة"، فأُبلِسَ أصحابُه فما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأَى رسولُ الله ﷺ الذي بأصحابه قال:"اعمَلوا وأَبشِرُوا، فوالَّذِي نفسُ محمدٍ بيده، إنكم لمعَ خَلِيقتَينِ ما كانتا مع شيءٍ قطُّ إِلَّا كَثَرَتاهُ، يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدمَ وبني إبليسَ"، فسُرِّيَ على القوم بعضُ الذي يَجِدُون، ثم قال:"اعمَلوا وأبشِرُوا، فوالذي نفسُ محمدٍ بيده ما أنتم في الناس إلّا كالشَّامَةِ في جَنْب البعير، أو كالرَّقْمةِ في ذراع الدابَّة" (1) . حديث هشام الدَّستُوائي حديث صحيح، فإن أكثر أئمَّتِنا من المتقدِّمين على أنَّ الحسن قد سمع من عِمران بن حُصين (1) ، فأما إذا اختلف هشامٌ والحكمُ بن عبد الملك، فالقولُ قولُ هشام.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور (سفر کی تھکن یا تگ و دو میں) صحابہ ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو گئے تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی چیز ہے۔۔۔ (تا)۔۔۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے“۔ جب صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر دیں اور جان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ (اہم) ارشاد فرمانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہوگا؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہوگا جب آدم (علیہ السلام) کو ان کا رب پکارے گا اور فرمائے گا: اے آدم! جہنم کا لشکر روانہ کرو۔ وہ عرض کریں گے: اے رب! جہنم کا لشکر کتنا ہے؟ اللہ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں اور ایک جنت میں“۔ (یہ سن کر) صحابہ پر ایسی مایوسی اور اداسی چھائی کہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تک نہ رہی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! تم دو ایسی مخلوقوں (یا گروہوں) کے ساتھ ہو کہ وہ جس چیز کے ساتھ بھی ہوں اسے کثیر کر دیتی ہیں: یاجوج ماجوج، اور وہ جو بنی آدم اور ابلیس کی اولاد میں سے ہلاک ہوئے“۔ اس بات سے لوگوں کی وہ کیفیت (پریشانی) کچھ کم ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم (قیامت کے دن) تمام لوگوں کے مقابلے میں ایسے ہو گے جیسے اونٹ کے پہلو میں ایک نشان (تل) ہوتا ہے یا جیسے چوپائے کے بازو پر بالوں کا کوئی مخصوص نشان“۔ ہشام دستوائی کی یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ ہمارے متقدمین ائمہ کی اکثریت اس پر ہے کہ حسن (بصری) کا سماع عمران بن حصین سے ثابت ہے۔ اور جہاں تک ہشام اور حکم بن عبدالملک کے اختلاف کا تعلق ہے، تو بات ہشام ہی کی معتبر ہوگی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2954]
حدیث نمبر: 2955
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا هشام بن خالد الأزرق، حدثنا إسماعيل بن قيس، عن نافع بن أبي نُعَيم القارئ، حدثني إسماعيل بن أبي حَكِيم، حدثنا خارجةُ بن زيد بن ثابت، عن أبيه زيد بن ثابت: أنَّ رسول الله ﷺ قرأَ: ﴿كَيْفَ نُنْشِزُهَا﴾ [البقرة: 259] بالزَّاي (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يَحتجَّا بإسماعيل بن قيس بن ثابت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2918 - إسماعيل بن قيس من ولد زيد بن ثابت ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يَحتجَّا بإسماعيل بن قيس بن ثابت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2918 - إسماعيل بن قيس من ولد زيد بن ثابت ضعفوه
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” کَیْفَ نُنْشِزُھَا “ زا کے ساتھ پڑھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل بن قیس بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2955]
حدیث نمبر: 2956
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، أخبرنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود قال: أقرأَني رسول الله ﷺ: (إنِّي أنا الرَّزّاقُ ذُو القوَّةِ المَتِينُ) (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2919 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2919 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا: ” انّی انا الرزاق ذو القوَّۃِ المتین “ (الذاریات: 58) ” بے شک میں ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہوں “۔۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2956]