المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. الصفا والمروة كانتا من مشاعر الجاهلية أيضا
صفا اور مروہ جاہلیت کے زمانے میں بھی عبادت کی جگہوں میں شمار ہوتے تھے
حدیث نمبر: 3106
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد ابن الأصبهاني، حدثنا علي بن مَسهِر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: إنما نزلت هذه الآيةُ في الأنصار، كانوا في الجاهلية إذا أَحرموا لا يَحِلُّ لهم أن يَطَّوَّفوا بين الصَّفَا والمَرْوة، فلما قَدِمْنا ذَكَروا ذلك لرسول الله ﷺ، فأنزل الله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ إلى آخر الآية [البقرة: 158] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3069 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3069 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ آیت: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) ” بے شک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں “۔ انصار کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ احرام باندھ لیتے تو وہ صفا و مروہ کی سعی کو ناجائز سمجھتے تھے۔ جب ہم وہاں آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) ” بے شک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں۔ “ انصار کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ احرام باندھ لیتے تو وہ صفا و مروہ کی سعی کو ناجائز سمجھتے تھے۔ جب ہم وہاں آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) ” بے شک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں “۔ آیت کے آخر تک۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3106]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3106 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه بنحوه بأطول ممّا هنا البخاري (1790) و (4495)، ومسلم (1277)، وأبو داود (1901)، وابن ماجه (2986)، والنسائي (10942)، وابن حبان (3839) من طرق عن هشام ابن عروة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه. وأخرجه كذلك أحمد 42/ (25112)، والبخاري (1643) و (4861)، ومسلم (1277) (261)، والترمذي (2965)، والنسائي (3946) و (3947)، وابن حبان (3840) من طريق ابن شهاب الزهري، عن عروة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل یہاں سے زیادہ طویل بخاری (1790) و (4495)، مسلم (1277)، ابوداؤد (1901)، ابن ماجہ (2986)، نسائی (10942)، اور ابن حبان (3839) نے ہشام بن عروہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کی ہے؛ 📌 اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے احمد نے 42/ (25112)، بخاری نے (1643) اور (4861)، مسلم نے (1277) (261)، ترمذی نے (2965)، نسائی نے (3946) اور (3947)، اور ابن حبان نے (3840) میں ابن شہاب زہری کے طریق سے، انہوں نے عروہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔