🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. مذمة المخابرة وجواز السلف
مخابرہ کی مذمت اور قرض دینے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3169
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وَكيع، حدثنا سفيان، عن آدم بن سليمان قال: سمعت سعيد بن جُبير يحدِّث عن ابن عبَّاس قال: لما نَزَلَت هذه الآية: ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ﴾ [البقرة: 284] فلما نزلت شَقَّ ذلك عليهم ما لم يَشُقَّ عليهم شيءٌ مثلُ ذلك، فقال لهم رسول الله ﷺ:"قولوا: سَمِعْنا وأَطَعْنا" فألقى الله الإيمانَ في قلوبهم فقالوا: سَمِعْنا وأَطَعْنا، فأنزل الله ﷿: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾ إلى قوله: ﴿أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ [البقرة: 286] قال:"قد فعلتُ"؛ إلى آخر البقرة (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3132 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ (البقرہ: 284) اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ۔ تو یہ حکم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اس قدر گراں گزرا کہ اس سے پہلے کبھی کوئی حکم اتنا گراں نہیں گزرا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم کہو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ انہوں نے کہا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ) (البقرہ: 286) اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی ۔ اَوْ اَخلطَاْنَا تک۔ پھر آپ نے فرمایا: بے شک ایسا ہو چکا۔ سورۂ بقرہ کے آخر تک۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3169]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3169 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم هو ابن راهويه، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں، اور سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه مسلم (126) عن إسحاق بن إبراهيم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه ﵀.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم نے (126) میں اسحاق بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛ 📌 اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔
وأخرجه أحمد 3 / (2070)، ومسلم (126)، والترمذي (2992)، والنسائي (10993)، وابن حبان (5069) من طرق عن وكيع به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 3/ (2070)، مسلم نے (126)، ترمذی نے (2992)، نسائی نے (10993)، اور ابن حبان نے (5069) میں وکیع کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 5 / (3070) من طريق حميد الأعرج، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل احمد نے 5/ (3070) میں حمید الاعرج کے طریق سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے۔