🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. تفسير سورة آل عمران
سورۂ آلِ عمران کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3176
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب، حدثنا عمر بن راشد، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ ممَّا أَتَخَوَّفُ على أُمتي، أن يَكثُرَ فيهم المالُ حتى يتنافسوا فيه، فيَقتَتِلوا عليه، وإنَّ مما أتخوَّفُ على أُمتي، أن يُفتَحَ لهم القرآنُ حتى يقرأَه المؤمنُ والكافرُ والمنافقُ، فيُحِلُّ حلالَه المؤمنُ ﴿ابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ﴾ إلى آخر الآية [آل عمران: 7] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3139 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ مجھے اپنی امت پر جو خدشہ ہے وہ یہ ہے کہ ان میں مال کی کثرت ہو جائے گی۔ پھر یہ اس کے حصول میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر دلچسپی لیں گے جس کی وجہ سے ان کے آپس میں لڑائی جھگڑے ہوں گے اور مجھے جو خدشہ ہے وہ یہ ہے کہ ان کے لیے قرآن کھول دیا جائے گا اور یہاں تک کہ مومن، کافر اور منافق سب لوگ اس کو پڑھیں گے اور مومن اس کے حلال کردہ کو حلال جانے گا اس آیت کی تاویل تلاش کرتے ہوئے۔ ٭٭ (یہ حدیث) صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3176]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3176 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًا، عمر بن راشد متفق على ضعفه، وحدَّث عن يحيى بن أبي كثير بأحاديث مناكير كما قال أحمد وغيره.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمر بن راشد کے ضعف پر اتفاق ہے، اور انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے منکر حدیثیں (مناکیر) روایت کی ہیں جیسا کہ احمد وغیرہ نے کہا ہے۔
وأخرجه المستغفري في "فضائل القرآنط (259) من طريق أحمد بن منصور -وهو الرمادي- عن الحسن الأشيب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مستغفری نے "فضائل القرآن" (259) میں احمد بن منصور (جو کہ الرمادی ہیں) کے طریق سے، انہوں نے حسن الاشیب سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔