🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. دواء وجع عرق النساء
عرق النساء کے درد کا علاج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3190
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ إسرائيل أخَذَه عِرقُ النَّسَا، فكان يُبيتُ وله زُقَاءُ (2) ، قال: فجَعَلَ إِن شَفَاه اللهُ أن لا يأكلَ لحمًا فيه عُروق، قال: فحرَّمَته اليهودُ، فنزلت: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [آل عمران: 93] ، إنَّ هذا كان قبلَ التَّوراة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3152 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدنا یعقوب عرق النساء (بیماری) میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس بیماری سے شفاء دے دے تو وہ کبھی بھی ایسا گوشت نہیں کھائیں گے جس میں رگیں ہوتی ہیں (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں، یہودیوں نے بھی اس طرح کا گوشت اپنے اوپر حرام کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآئِیْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰۃُ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (آل عمران: 93) سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا تورات اترنے سے پہلے تم فرماؤ تورات لا کر پڑھو اگر سچے ہو ۔ یہ بات نزول تورات سے پہلے کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3190]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3190 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف قوله: "وله زقاء" في النسخ الخطية إلى: واررقا. والزُّقاء: الصِّياح.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں قول: "وله زقاء" تحریف ہو کر "واررقا" ہو گیا ہے۔ "الزُّقاء": چیخنا، چلانا (آواز نکالنا)۔
(3) إسناده صحيح. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العَنبَري، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو المثنیٰ سے مراد ’معاذ بن المثنیٰ العنبری‘ ہیں، یحییٰ بن سعید سے مراد ’القطان‘ ہیں، اور سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 10/ 8 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 126، ومن طريقه الطبري 4/ 5، والبيهقي 10/ 8 عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 10/ 8 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور اسے عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" 1/ 126 میں، اور انہی کے طریق سے طبری نے 4/ 5 میں، اور بیہقی نے 10/ 8 میں سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم 3/ 705 عن ابن نمير، عن الأعمش وسفيان الثوري، عن حبيب بن أبي ثابت، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے 3/ 705 میں ابن نمیر سے، انہوں نے اعمش اور سفیان ثوری سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري 4/ 5 من طريق منصور، عن حبيب بن أبي ثابت، عن ابن عبَّاس. بإسقاط سعيد بن جبير، وحبيب لم يدرك ابنَ عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے 4/ 5 میں منصور کے طریق سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں سعید بن جبیر کو ساقط کر دیا گیا ہے، اور حبیب نے ابن عباس کو نہیں پایا۔
عِرق النَّسا: هو العَصَب الوركيّ، وهو عصب يمتدّ من الوَرِك إلى الكعب.
📝 نوٹ / توضیح: "عِرق النَّسا": یہ ورکی عصب (Sciatic nerve) ہے، اور یہ وہ رگ ہے جو کولہے سے ایڑی تک جاتی ہے۔