🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. فرضية الحج فى العمر مرة واحدة
زندگی میں حج صرف ایک ہی مرتبہ فرض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3195
حدَّثَناه أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حدثنا مُخوَّل بن إبراهيم النَّهْدي، حدثنا منصور بن وَرْدَان، حدثنا علي ابن عبد الأعلى، عن أبيه، عن أبي البَخْتَرِي، عن علي قال: لما نزلت هذه الآيةُ: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97] قالوا: يا رسول الله، أفي كلِّ عام؟ فَسَكَتَ، ثم قالوا: أفي كلِّ عام؟ فسَكت، ثم قالوا: أفي كلِّ عام؟ قال:"لا، ولو قلتُ: نَعَم، لوَجَبَت"، فأنزل الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [المائدة: 1] (1) . قال الحاكم: كان من حُكْم هذه الأحاديث الثلاثة أن تكون مخرَّجةً في أول كتاب المَناسِك، فلم يُقدَّرْ ذلك لي، فخرَّجتُها في تفسير الآية.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3157 - مخول رافضي وعبد الأعلى هو ابن عامر ضعفه أحمد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت: (وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا) (آل عمران: 97) اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دریافت کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دوبارہ پوچھا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی خاموش رہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پھر پوچھا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ (اور فرمایا) اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج) فرض ہو جاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ (المائدہ: 101) اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں ۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: مذکورہ تینوں حدیثوں کا حق تو یہ تھا کہ ان کو کتاب المناسک کے آغاز میں درج کرتے لیکن میں ایسا نہ کر سکا اس لیے اب میں ان کو آیت کی تفسیر کے تحت درج کر رہا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3195]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3195 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الأعلى بن عامر الثعلبي والد علي، وأبو البختري -واسمه سعيد بن فيروز- لم يسمع من عليٍّ، وأعلَّه الذهبي في "تلخيصه" بعبد الأعلى.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے عبدالاِعلیٰ بن عامر الثعلبی (علی کے والد) کے ضعف کی وجہ سے، اور ابو البختری (جن کا نام سعید بن فیروز ہے) نے علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا (سماع نہیں کیا)؛ اور ذہبی نے "تلخیص" میں اسے عبدالاِعلیٰ کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (905)، وابن ماجه (2884)، والترمذي (814) و (3055) من طرق عن منصور بن وَرْدان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 2/ (905)، ابن ماجہ نے (2884)، اور ترمذی نے (814) اور (3055) میں منصور بن وردان کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔