🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. تطليق رافع بن خديج زوجته ونزول الآية
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا اپنی بیوی کو طلاق دینا اور آیت کا نازل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3244
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر عن الزُّهري، عن سعيد بن المسيّب وسليمان بن يَسار، عن رافع بن خَدِيج: أنه كانت تحته امرأةٌ قد خَلَا من سِنِّها، فتزوَّج عليها شابةً، فآثر البِكَر عليها، فأبَتِ امرأتُه الأولى أن تَقِرَّ على ذلك، فطلَّقها تطليقةً حتى إذا بقي من أجَلِها يسيرٌ قال: إن شئتِ راجعتُكِ وصبرتِ على الأَثَرة، وإن شئتِ تركتُكِ حتى يَخلُوَ أجَلُكِ، قالت: بل راجِعْني أَصبِرْ على الأَثَرة، فراجعها، ثم آثَرَ عليها، فلم تَصبِرْ على الأَثَرة فطلَّقها الأخرى، وآثَرَ عليها الشابةَ. قال: فذلك الصلحُ الذي بَلَغَنا أنَّ الله أنزل فيه: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا﴾ [النساء: 128] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3205 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج کے نکاح میں ایک خاتون تھی۔ جب وہ بوڑھی ہو گئی تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کر لی اور اس کنواری لڑکی کو اس بوڑھی پر بہت ترجیح دینے لگے جبکہ اس کی پہلی بیوی کو یہ بات بہت ناگوار گزری، اس نے کہا: اگر تو نے اسی عادت پر قائم رہنا ہے تو مجھے طلاق دے دو۔ انہوں نے طلاق دے دی، جب اس کی عدت گزرنے کے چند دن باقی رہ گئے تو اس نے اپنی اس بیوی سے کہا: اگر تو چاہے تو میں رجوع کر لوں اور تو میرے اس رویئے کو برداشت کر لے، اور اگر تو چاہے تو میں تجھے چھوڑ دیتا ہوں یہاں تک کہ تیری عدت گزر جائے۔ اس نے کہا: تو رجوع کر لے، میں تیرے اس طرفداری کے رویئے کو برداشت کر لوں گی۔ انہوں نے رجوع کر لیا لیکن وہ پھر اس بیوی کو ترجیح دینا برداشت نہ کر پائی، انہوں نے دوبارہ اس کو طلاق دے دی اور نوجوان بیوی کو اس پر ترجیح دی۔ آپ فرماتے ہیں: یہ ہے وہ صلح جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے: وَ اِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْم بَعْلِھَا نُشُوزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَھُمَا صُلْحًا (النساء: 128) اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کریں ۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3244]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3244 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وهو في تفسير "تفسير عبد الرزاق" 1/ 175، وفي "مصنفه" (10653)، وهو في "المصنف" على صورة الإرسال: عن سعيد بن المسيب وسليمان بن يسار أنَّ رافع بن خديج كان تحته امرأة … لكن سعيد وسليمان معروفان بالرواية عن رافع وقد سمعا منه، ومهما يكن من أمر فإنَّ مراسيل سعيد بن المسيب من أصحِّ المراسيل والجمهور على الاحتجاج بها. ومن طريق عبد الرزاق كرواية "المصنَّف" أخرجه الطبري في "تفسيره" 5/ 309.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبدالرزاق" 1/ 175 میں اور ان کی "مصنف" (10653) میں موجود ہے۔ "مصنف" میں یہ ارسال کی صورت میں ہے: "عن سعید بن المسیب و سلیمان بن یسار، کہ رافع بن خدیج کے نکاح میں ایک عورت تھی..."۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن سعید اور سلیمان دونوں رافع سے روایت کرنے میں معروف ہیں اور انہوں نے ان سے سماع کیا ہے۔ اور جو بھی ہو، سعید بن المسیب کی مرسل روایات اصح المراسیل (سب سے صحیح مرسل روایات) میں سے ہیں اور جمہور ان سے حجت پکڑنے کے قائل ہیں۔ اور عبدالرزاق کے طریق سے "مصنف" کی روایت کی طرح اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 5/ 309 میں تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 4/ 1081 من طريق شعيب بن أبي حمزة، عن الزهري، عن سعيد وسليمان: أنَّ رافع بن خديج … إلخ.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 4/ 1081 میں شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید اور سلیمان سے تخریج کیا ہے کہ: رافع بن خدیج... الخ۔
وأخرجه بنحوه أيضًا الشافعي في "الأم" 6/ 481، وسعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (701)، وابن أبي شيبة 4/ 202، والبيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 75 و 296، و"معرفة السنن والآثار" (14501)، والواحدي في "أسباب النزول" (370)، و"التفسير الوسيط" 2/ 124 من طريق سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب وحده: أنَّ ابنة محمد ابن مَسلمة كانت عند رافع بن خديج … فذكر نحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل شافعی نے "الأم" 6/ 481 میں، سعید بن منصور نے اپنی "سنن" کی تفسیر (701) میں، ابن ابی شیبہ نے 4/ 202 میں، بیہقی نے "السنن الكبرى" 7/ 75 اور 296 اور "معرفة السنن والآثار" (14501) میں، واحدی نے "أسباب النزول" (370) اور "التفسير الوسيط" 2/ 124 میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے اکیلے سعید بن المسیب سے تخریج کیا ہے کہ: محمد بن مسلمہ کی بیٹی رافع بن خدیج کے نکاح میں تھی... پھر اسی طرح ذکر کیا۔
وأخرجه كذلك مالك في "الموطأ" 2/ 548 - 549 عن ابن شهاب الزهري، عن رافع بن خديج: أنه تزوج بنت محمد بن مسلمة الأنصاري … إلخ. لكن لم يذكر فيه نزول الآية.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے مالک نے "الموطأ" 2/ 548 - 549 میں ابن شہاب زہری سے، انہوں نے رافع بن خدیج سے تخریج کیا ہے کہ: انہوں نے محمد بن مسلمہ الانصاری کی بیٹی سے شادی کی... الخ۔ لیکن اس میں آیت کے نزول کا ذکر نہیں کیا۔
قوله: "قد خلا من سِنِّها" أي: مضى من عمرها سنين، يريد أنها كبرت.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول: "قد خلا من سِنِّها" یعنی: ان کی عمر کے سال گزر چکے ہیں، مراد یہ ہے کہ وہ بوڑھی ہو گئی تھیں۔