المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
86. تطليق رافع بن خديج زوجته ونزول الآية
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا اپنی بیوی کو طلاق دینا اور آیت کا نازل ہونا
حدیث نمبر: 3245
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن ذرٍّ، عن يُسَيع (1) الكِنْدي قال: كنت عند علي بن أبي طالب فقال رجل: يا أمير المؤمنين، أرأيتَ قول الله تعالى: ﴿فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾ [النساء: 141] ، وهم يقاتلونهم فيَظهَرون ويَقتُلون، فقال علي: ادنُهْ، ادنُهْ، ثم قال: ﴿فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ﴾ يومَ القيامة (2) ﴿لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3206 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3206 - صحيح
سیدنا سبیع الکندی کہتے ہیں: میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ایک آدمی نے کہا: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ! آپ کا اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا (النساء: 141) ” تو اللہ تم سب میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا “۔۔ حالانکہ وہ ان سے جہاد کرتے ہیں، ان پر غالب آتے ہیں، ان کو قتل کرتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے قریب آؤ، میرے قریب آؤ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3245]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3245 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (ع): أسيع، وكلاهما صواب قد قيل في اسمه.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "أسيع" ہے، اور دونوں درست ہیں، ان کے نام میں دونوں اقوال ہیں۔
(2) هذا القول تفسير من علي ﵁ أوضح فيه للسائل أنَّ هذا النفي إنما هو حاصل في يوم القيامة وليس في الدنيا.
📝 نوٹ / توضیح: یہ قول علی رضی اللہ عنہ کی تفسیر ہے جس میں انہوں نے سائل کو واضح کیا کہ یہ نفی قیامت کے دن حاصل ہو گی، دنیا میں نہیں۔
(3) إسناده حسن أبو حذيفة هو موسى بن مسعود النهدي، وهذا الخبر في "تفسير سفيان الثوري" بروايته برقم (228). ذر: هو ابن عبد الله الهمداني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے؛ ابو حذیفہ سے مراد ’موسیٰ بن مسعود النہدی‘ ہیں۔ یہ خبر "تفسیر سفیان الثوری" میں انہی کی روایت سے نمبر (228) پر ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ذر سے مراد ’ابن عبداللہ الہمدانی‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "البعث والنشور" (81) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "البعث والنشور" (81) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 2/ (793) من طريق إسحاق بن الحسن، عن أبي حذيفة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ضیاء المقدسی نے "الأحاديث المختارة" 2/ (793) میں اسحاق بن الحسن کے طریق سے، انہوں نے ابو حذیفہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه من طريق سفيان الثوري أيضًا عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 175، وكذا الطبري 5/ 333.
📖 حوالہ / مصدر: اسے سفیان ثوری کے طریق سے عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" 1/ 175 میں، اور اسی طرح طبری نے 5/ 333 میں بھی تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 5/ 333، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 4/ 1095، والواحدي في "الوسيط" 2/ 130 - 131 من طرق عن الأعمش، به. ولم يسمِّ الطبري في أحد طرقه يسيعًا بل أبهمه.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی "تفسیر" 5/ 333 میں، ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 4/ 1095 میں، اور واحدی نے "الوسيط" 2/ 130 - 131 میں اعمش کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور طبری نے اپنے ایک طریق میں "یسیع" کا نام نہیں لیا بلکہ انہیں مبہم رکھا ہے۔