🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. تفسير : ( لولا أن رأى برهان ربه )
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3365
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الكريمَ ابنَ الكريمِ ابنِ الكريمِ ابن الكريم، يوسفُ بن يعقوبَ ابن إسحاقَ بنِ إبراهيمَ خليلِ الرَّحمن. ولو لَبِثْتُ ما لَبِثَ يوسفُ ثم جاءني الداعي لأجبتُ، إذ جاءه الرسولُ فقال: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ [يوسف: 50] " (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الزُّهْري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة:"لو لبثتُ في السجن ما لَبِثَ يوسف" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3325 - وقد اتفقا على حديث سعيد وابن عبيد عن أبي هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک کریم کے کریم بیٹے کے اکرم بیٹے کا کریم بیٹا، سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کا بیٹا یوسف علیہ السلام ہے۔ یوسف علیہ السلام جس قدر جیل میں رہے، اگر اتنا عرصہ میں جیل میں رہتا اور پھر میرے پاس رہائی کا پروانہ آتا تو میں قبول کر لیتا (لیکن کمال حوصلہ ہے یوسف علیہ السلام کا) کہ جب ان کے پاس قاصد آیا تو آپ نے فرمایا: اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا، پھر اس سے پوچھا: ان عورتوں کا کیا حال ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بے شک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے سعید رضی اللہ عنہ اور ابوعبید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اتنی حدیث نقل کی ہے اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ یوسف علیہ السلام رہے ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3365]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3365 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذ إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور محمد بن عمرو (ابن علقمہ بن وقاص اللیثی) کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8391) و (8392) و 15/ (9380)، والترمذي (3116)، والنسائي (11190)، وابن حبان (5776) و (6207) من طرق عن محمد بن عمرو، بهذا الإسناد - واقتصر بعضهم على الشطر الأول منه وبعضهم على الشطر الثاني.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (14/ 8391، 8392 اور 15/ 9380)، ترمذی (3116)، نسائی (11190) اور ابن حبان (5776، 6207) نے محمد بن عمرو سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے - 🧾 تفصیلِ روایت: اور ان میں سے بعض نے صرف پہلے حصے پر اور بعض نے صرف دوسرے حصے پر اکتفا کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (2985) وما سيأتي برقم (4127).
📖 حوالہ / مصدر: جو رقم (2985) پر گزر چکا ہے اور جو آگے (4127) پر آئے گا، اسے دیکھ لیں۔
وأخرج أحمد 15/ (9568)، والبخاري (3353) و (3490)، ومسلم (2378) وغيرهم من حديث سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: سُئل رسول الله ﷺ: من أكرمُ الناس؟ قال: "أتقاهم" قالوا: ليس عن هذا نسألك، قال: "فيوسف نبيُّ الله ابنُ نبي الله ابنِ نبي الله ابن خليل الله".
🧩 متابعات و شواہد: احمد (15/ 9568)، بخاری (3353، 3490)، مسلم (2378) اور دیگر نے سعید بن ابی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ہریرہ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: لوگوں میں سب سے معزز کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے"۔ انہوں نے کہا: ہم آپ سے اس بارے میں نہیں پوچھ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تو پھر یوسف، جو اللہ کے نبی ہیں، اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں، اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں، اور اللہ کے خلیل کے بیٹے ہیں۔"
وأخرج أحمد أيضًا 14/ (8328)، والبخاري (3372) و (4694)، ومسلم (151) وغيرهم من حديث الزهري، عن أبي سلمة وسعيد بن المسيب، عن أبي هريرة رفعه: "ولو لبثتُ في السجن ما لبثَ يوسف لأجبتُ الداعي".
📖 حوالہ / مصدر: اور احمد (14/ 8328)، بخاری (3372، 4694)، مسلم (151) اور دیگر نے زہری عن ابی سلمہ و سعید بن مسیب عن ابی ہریرہ کی حدیث سے مرفوعاً روایت کیا ہے: "اگر میں قید خانے میں اتنا عرصہ رہتا جتنا یوسف رہے، تو میں بلانے والے کی بات فوراً مان لیتا۔"
(2) هو من هذا الطريق عند البخاري برقم (3387) و (6992)، ومسلم برقم (151).
📖 حوالہ / مصدر: یہ اسی طریق سے بخاری (3387، 6992) اور مسلم (151) میں موجود ہے۔