المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
129. تفسير : ( لولا أن رأى برهان ربه )
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3366
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا موسى بن عُليِّ بن رَبَاح، عن أبيه قال: استَأذنَ رجلٌ على عمر فقال: استأذِنوا لابن الأخيار، فقال عمر: ائذَنوا لابن الأخيار، فلما دخل قال له عمر: من أنت؟ قال: أنا فلانُ بنُ فلان بنِ فلان، قال: فجعل يَعُدُّ رجالًا من أشراف الجاهلية، فقال له عمر: أنت يوسفُ بنُ يعقوبَ بن إسحاقَ بنِ إبراهيم؟ قال: لا، قال: ذاك ابنُ الأخيارِ، وأنت ابنُ الأشرار، إنما تعدُّ عليَّ رجالَ أهل النار (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن رباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور یوں کہا: بہترین لوگوں کے بیٹے کو اجازت دیجئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو، جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے جواباً کہا: میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں (راوی) کہتے ہیں: اپنا تعارف کراتے ہوئے، اس نے زمانہ جاہلیت کے صاحب منصب لوگوں کے نام گنوانا شروع کر دیئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے سیدنا اسحاق علیہ السلام کے بیٹے سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے سیدنا یوسف علیہ السلام ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: بہترین لوگوں کا بیٹا تو وہ تھا۔ اور تو شریر لوگوں کا بیٹا ہے تو ہمارے سامنے جہنمی لوگوں کا ذکر کر رہا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا علی بن رباح رحمۃ اللہ علیہ کبیر تابعی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3366]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3366 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف، محمد بن سنان القزاز مختلف فيه وقد تفرَّد به، وعُلي بن رباح لم يدرك السماع من عمر بن الخطاب وُلد بالمغرب في آخر خلافة عمر أو صدر خلافة عثمان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے؛ محمد بن سنان القزاز میں اختلاف ہے اور وہ اس میں منفرد ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور علی بن رباح نے عمر بن خطاب سے سماع نہیں کیا (نہیں پایا)، کیونکہ وہ مغرب (مراکش وغیرہ) میں حضرت عمر کی خلافت کے آخر یا حضرت عثمان کی خلافت کے شروع میں پیدا ہوئے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابوعامر العقدی: یہ عبدالملک بن عمرو ہیں۔