🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. تَفْسِيرُ : ( لَوْلَا أَنْ رَأَىَ بُرْهَانَ رَبِّهِ )
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3366
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا موسى بن عُليِّ بن رَبَاح، عن أبيه قال: استَأذنَ رجلٌ على عمر فقال: استأذِنوا لابن الأخيار، فقال عمر: ائذَنوا لابن الأخيار، فلما دخل قال له عمر: من أنت؟ قال: أنا فلانُ بنُ فلان بنِ فلان، قال: فجعل يَعُدُّ رجالًا من أشراف الجاهلية، فقال له عمر: أنت يوسفُ بنُ يعقوبَ بن إسحاقَ بنِ إبراهيم؟ قال: لا، قال: ذاك ابنُ الأخيارِ، وأنت ابنُ الأشرار، إنما تعدُّ عليَّ رجالَ أهل النار (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
موسی بن علی بن رباح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور (دربان سے) کہا: بہترین لوگوں کے بیٹے کے لیے اجازت طلب کرو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس بہترین لوگوں کے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت دے دو۔ جب وہ اندر آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں۔ وہ دور جاہلیت کے معزز لوگوں میں سے اپنے آباؤ اجداد گننے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا تم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ (سیدنا یوسف علیہ السلام) ہیں بہترین لوگوں کے بیٹے، جبکہ تم تو بدترین لوگوں کے بیٹے ہو، تم میرے سامنے جہنمیوں کے نام گنوا رہے ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن رباح کبار تابعین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمد بن سنان القزاز مختلف فيه وقد تفرَّد به، وعُلي بن رباح لم يدرك السماع من عمر بن الخطاب وُلد بالمغرب في آخر خلافة عمر أو صدر خلافة عثمان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.» [ترقيم الرساله 3366] [ترقيم الشركة 3346] [ترقيم العلميه 3326]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3366 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف، محمد بن سنان القزاز مختلف فيه وقد تفرَّد به، وعُلي بن رباح لم يدرك السماع من عمر بن الخطاب وُلد بالمغرب في آخر خلافة عمر أو صدر خلافة عثمان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے؛ محمد بن سنان القزاز میں اختلاف ہے اور وہ اس میں منفرد ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور علی بن رباح نے عمر بن خطاب سے سماع نہیں کیا (نہیں پایا)، کیونکہ وہ مغرب (مراکش وغیرہ) میں حضرت عمر کی خلافت کے آخر یا حضرت عثمان کی خلافت کے شروع میں پیدا ہوئے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابوعامر العقدی: یہ عبدالملک بن عمرو ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3366 in Urdu