المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
129. تفسير : ( لولا أن رأى برهان ربه )
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3367
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائِني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال لي عمر: يا عدوَّ الله وعدوَّ الإسلام، خُنْتَ مالَ الله، قال: قلت: لستُ عدوَّ الله، ولا عدوَّ الإسلام، ولكني عدوُّ من عاداهما، ولم أَخُنْ مالَ الله، ولكنها أثمانُ إبلي وسهامٌ اجتمَعَت، قال: فأعادها عليَّ وأعدتُ عليه هذا الكلام، قال: فغرَّمني اثني عشر ألفًا، قال: فقمتُ في صلاة الغَدَاة فقلت: اللهمَّ اغفِرْ لأمير المؤمنين. فلما كان بعدَ ذلك أرادني على العمل، فأَبيتُ عليه، فقال: لِمَ وقد سأل يوسفُ العملَ وكان خيرًا منك؟ فقلت: إنَّ يوسف نبيٌّ ابنُ نبيٍّ ابنِ نبيٍّ ابنِ نبيّ، وأنا ابن أُمَيْمةٍ، وأنا أخاف ثلاثًا واثنتين، قال: أوَلا (1) تقول: خمسًا؟ قلت: لا، قال: فآتِهنَّ، قلت: أخاف أن أقولَ بغير علم، وأن أُفتيَ بغير علم، وأن يُضَرَبَ ظَهْري، ويُشتَمَ عِرْضي، وأن يُؤخَذَ مالي بالضرب (2) .
هذا حديث بإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3327 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث بإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3327 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے دشمن، اے اسلام کے دشمن تو نے اللہ تعالیٰ کے مال میں خیانت کی ہے۔ میں نے کہا: میں نہ تو اللہ تعالیٰ کا دشمن ہوں اور نہ ہی اسلام کا دشمن ہوں البتہ میں ان (اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ کے مال میں کوئی خیانت کی ہے۔ تاہم میرے اونٹوں کے حصے اور دیگر حصے اکٹھے ہیں۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ وہی باتیں میرے ساتھ کیں اور میں نے بھی دوبارہ یہی جواب دیا۔ انہوں نے مجھے 12 ہزار ہرجانہ ادا کرنے کا کہا۔ میں جب نماز فجر کے لیے کھڑا ہوا تو یوں دعا مانگی: اے اللہ! امیرالمومنین کی مغفرت فرما۔ اس کے بعد ایک دفعہ انہوں نے مجھے حکومتی ذمہ داری سونپنا چاہی، تو میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے وجہ پوچھی (اور ساتھ ہی یہ بھی کہا) یوسف علیہ السلام نے تو حکومتی ذمہ داری خود مانگ کر لی تھی حالانکہ وہ آپ سے بہتر تھے۔ میں نے کہا: یوسف علیہ السلام تو نبی بن نبی بن نبی بن نبی تھے جبکہ میں امیمہ کا بیٹا ہوں اور میں دو تین باتوں سے خوف رکھتا ہوں، انہوں نے کہا: آپ پانچ باتیں نہیں کہتے؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے پوچھا وہ تین باتیں کیا ہیں؟ میں نے کہا: مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ میں کبھی لاعلمی کی وجہ سے کوئی بات کہہ دوں اور یہ کہ میں بے علم فتویٰ جاری کر دوں۔ اور یہ کہ میری پیٹھ ماری جائے اور یہ کہ میری عزت پر گالیاں دی جائیں اور یہ کہ میرا مال ہتھیا لیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3367]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3367 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ: ولا، بإسقاط الهمزة من أوله، والمثبت من المطبوع وهو أوجه، وفي "التلخيص": ألا.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں "ولا" (ہمزہ کے بغیر) ہے، اور جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے وہ مطبوعہ سے لیا گیا ہے اور وہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، جبکہ "تلخیص" میں "ألا" ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 371 من طريق حفص بن غياث، عن هشام بن حسان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (67/ 371) میں حفص بن غیاث کے طریق سے، ہشام بن حسان سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه معمر في "جامعه" (20659) عن أيوب، وأبو عبيد في "الأموال" (668) من طريق يزيد بن إبراهيم التُّستَري، وابن عبد الحكم في "فتوح مصر" ص 261 - 262 من طريق سليمان بن أبي سليمان، ثلاثتهم عن محمد بن سيرين، به - وفي رواية أيوب عن ابن سيرين: أنَّ عمر … مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے معمر نے "جامع" (20659) میں ایوب سے، ابوعبید نے "الاموال" (668) میں یزید بن ابراہیم التستری کے طریق سے، اور ابن عبدالحکم نے "فتوح مصر" (ص 261-262) میں سلیمان بن ابی سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ تینوں محمد بن سیرین سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: البتہ ایوب عن ابن سیرین کی روایت میں یہ ہے کہ "حضرت عمر..." (یہاں مرسل ہے)۔
وأخرج الشطر الأول منه أبو عبيد (667)، وابن سعد في "الطبقات" 5/ 252 من طريق عبد الله بن عون، عن ابن سيرين، به. إلَّا أنه عند أبي عبيد عن ابن سيرين مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا پہلا حصہ ابوعبید (667) اور ابن سعد نے "الطبقات" (5/ 252) میں عبداللہ بن عون عن ابن سیرین کے طریق سے روایت کیا ہے۔ مگر ابوعبید کے ہاں یہ ابن سیرین سے مرسل ہے۔